تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 31
۳۱ فارسی کو بڑے پیار سے مخاطب کیا اور فرمایا سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ سلمان تو ہم میں سے ہے اور اہل بیت ہے۔مختصر یہ کہ آپ نے صحابہ کے ایک سوال کے جواب میں اس قدر وضاحت کے ساتھ جواب دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کا چمکتا ہوا سورج ہے اور اس جواب میں تمام اہم سوالات کا نہ صرف جواب آ جاتا ہے بلکہ اس کی تمام تفصیلات و جزئیات تک کو آپ نے اس چھوٹے سے فقرے میں سمو کر رکھ دیا ہے۔اللھم ، (١٦) صَلَّ عَلَى مُحَمَّدِ وَ آلِ مُحَمَّدٍ درس قرآن کریم کے بعد صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت پر دو تقاریر ہوئیں۔پہلی تقریر میں مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی سیرت و سوانح کا خاکہ دلنشین انداز میں بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں جو شمع روشن ہوئی، یہ سب پاکباز وجود اس شمع کے پروانے تھے۔سیرت کی دوسری تقریر حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے بارے میں فرمائی۔آپ نے حضرت مولوی صاحب کے تبحر علمی، تصوف تبتل الی اللہ تبلیغی مساعی اور مجاہدات کا سیر حاصل تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے اپنی ساری زندگی بڑے مجاہدانہ رنگ میں گزاری۔آپ ایک مستجاب الدعوات بزرگ اور عاجزی وانکساری کے پیکر انسان تھے۔سوال و جواب کا دلچسپ سلسلہ اس کے بعد سوال و جواب کی دلچسپ مجلس کا آغاز ہوا۔اس پروگرام کی جدت یہ تھی کہ علماء کے ایک بورڈ نے حاضرین سے بعض علمی و دینی سوالات پوچھ کر ان کے جوابات لینے تھے اور اگر حاضرین میں سے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو بورڈ کے کسی رکن نے ان کی وضاحت کرنی تھی۔علماء کا یہ بورڈ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، مکرم مولا نا عبد المالک خاں صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب پر مشتمل تھا۔اس دلچسپ علمی مجلس میں اٹھارہ سوالات پوچھے گئے۔بعض سوالات معہ جوابات بطور نمونہ پیش ہیں۔سوال: قدرت اولی اور قدرت ثانیہ کے الفاظ کا ذکر کس کتاب میں ہے؟ جواب: سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رسالہ الوصیت میں اس کا ذکر ہے اور حضور نے یہاں قدرت ثانیہ سے مراد خلافت لی ہے۔سوال شرائط بیعت کے آغاز اور حضرت مصلح موعودؓ کی پیدائش کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ جواب: حضرت مصلح موعودؓ کی پیدائش اور شرائط بیعت کا آغاز ایک ہی دن کو ہو ا۔یعنی ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء۔سوال جنگ بدر میں کس صحابی کے ہاتھوں سب سے زیادہ کفار قتل ہوئے؟