تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 27
۲۷ دس نمائندگان نے اس کے متعلق اپنی آراء پیش کیں۔دورانِ بحث بڑے دلچسپ نکات اُٹھائے گئے۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب لاہور نے مشورہ دیا کہ اس تجویز کے بعض پہلوا بھی نامکمل ہیں اور مزید غور طلب ہیں اس لئے بجائے اسی شوری میں فیصلہ کرنے کے، ایک سب کمیٹی بنادی جائے جو دوران سال اس کے سارے پہلوؤں پر غور کرے اور آخری صورت میں اگلے سال پیش کرے۔مجلس شوری نے اس سے اتفاق کیا۔چنانچہ صدر محترم نے شوری کی اس متفقہ سفارش کو منظور فرمالیا اور شوری کے مشورہ سے حسب ذیل احباب پر پر مشتمل ایک سب کمیٹی مقررفرمائی۔۱ مکرم ڈاکٹر عبدالقادر صاحب نمائندہ گوجرانوالہ ۲ مکرم میجر (ریٹائرڈ) محمود احمد صاحب سرگودھا مکرم چوہدری احمد دین صاحب فیصل آباد ۴۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب لاہور۔مکرم ڈاکٹر احمد حسن صاحب چیمہ گجرات مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب جھنگ صدر ۷۔مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب سیالکوٹ مکرم ملک لطیف احمد سرور صاحب شیخو پوره ۹ مکرم پر و فیسر محمد طفیل صاحب ساہیوال ۱۰۔مکرم پر و فیسر حبیب اللہ خان صاحب قائد تعلیم۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نائب صدر مجلس مرکز یہ ۱۲۔مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب قائد وقف جدید آخر پر مکرم میجر سعید احمد صاحب لاہور نے مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا نام بطور ایڈوائزر (مشیر ) کے پیش کیا مگر چونکہ ایسی کوئی روایت پہلے موجود نہیں تھی۔اس لئے صدر مجلس نے ان سے کہا کہ اگر مکرم صاحبزادہ صاحب کا نام ضروری سمجھتے ہیں تو بطور مبر کمیٹی پیش کر سکتے ہیں۔چنانچہ مکرم صاحبزادہ صاحب کو بھی بطور ممبر کمیٹی شامل کر لیا گیا۔انتخاب صدر : ایجنڈا کی تجویز نمبر ۳ دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۹۲ میں انتخاب صدر کے طریق کار کے بارہ میں ترمیم سے متعلق تھی۔سب سے پہلے مذکورہ قاعدہ زیر غور آیا۔پانچ نمائندگان نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔اس قاعدہ میں حسب ضرورت“ کے الفاظ مناسب نہ سمجھے گئے اور مجلس عاملہ مرکزیہ کی تجویز کردہ عبارت کو شوری نے