تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 420
۴۲۰ اجتماع کو ہر پہلو سے بابرکت اور کامیاب بنائے اور اس کے دور رس نیک اثرات مرتب فرمائے اور مجالس برطانیہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے سائے تلے بیش از بیش ترقی کی راہوں پر گامزن رہیں۔اس موقع پر مجھے پیغام کے لئے کہا گیا ہے۔اس سے بہتر اور کیا پیغام ہوسکتا ہے کہ میں برادرم مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کو مجسم پیغام کی صورت میں آپ کے پاس بھجوا رہا ہوں۔ان کی نصائح کو غور سے سُنیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور عمل کے سانچوں میں ڈھال کر اپنے خلوص نیت کا نا قابلِ تردید ثبوت پیش فرماویں۔امید ہے کہ یہ اجتماع انصار کے خون میں ایک نئی حدت پیدا کرے گا اور خدمت دین کی تمنا ئیں اگر کسی دل میں خوابیدہ بھی تھیں تو اب جاگ اٹھیں گی۔نئی زندگی اور نئے ولولے پیدا ہوں گے لیکن مجھے فکر اس بات کی ہے کہ کیا مجلس کی مقامی تنظیمیں اس روحانی توانائی سے کماحقہ استفادہ بھی کرسکیں گی ؟ بسا اوقات میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایسے مبارک اجتماعات سے پھوٹنے والی روحانی توانائی سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔پس اس کا بیشتر حصہ استعمال کے بغیر ضائع ہو جاتا ہے اور جذباتی ہیجان سے ٹھوس بات آگے نہیں بڑھتی لیکن میں آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ آپ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب ایک ٹھوس پروگرام لے کر آپ کے پاس آ رہے ہیں جسے بروئے کارلانے کے لئے آپ اس اجتماع سے پیدا ہونے والی روحانی حدت سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں اور اسے محض ایک نمائشی عارضی چم کار کا تماشہ نہ بنا دیں بلکہ اسے دائم رہنے والے حسین اعمال کی شکل میں ڈھال دیں جن کو قرآن کریم کی اصطلاح میں باقیات الصالحات کہا جاتا ہے۔اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ حسب ذیل چند باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانی چاہتا ہوں۔یہ خیال دل سے نکال دیں کہ انصار اللہ ایسے بوڑھوں کی ایک جماعت ہے جن کا عمل کا زمانہ پیچھے رہ چکا ہے اور اب آرام اور استراحت اور خواب غفلت کے مزے اڑانے کے دن ہیں۔اللہ تعالیٰ کی سنت اس غلط مغربی تصور کی تکذیب کر رہی ہے کیونکہ انبیاء کی بھاری اکثریت کا انتخاب اس نے اس عمر سے کیا جو ہماری اصطلاح میں انصار کی عمر کہلاتی ہے۔پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کے نزدیک پختگی کے ساتھ کام کرنے کی عمر کا آغا ز لگ بھگ چالیس سال سے شروع ہوتا ہے اور یہ کام کی عمر آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔عمر عزیز کے اس دور کی قدرو قیمت کا اندازہ کچھ اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب امتحان کا وقت قریب آتا ہے تو سال بھر نہ پڑھنے والے بچے بھی پڑھنے لگ جاتے ہیں اور بعض اوقات راتیں جاگ