تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 22 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 22

۲۲ لیکن اب معلوم ہوا کہ لاؤڈ سپیکر پر بات کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔اس سے قبل اس مجمع سے بھی بڑے مجمعوں میں بغیر لاؤڈ سپیکر کے میں تقریر کرتا رہا ہوں۔مگر اب بُری عادت پڑ چکی ہے اور ویس صاحب کی آواز کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کی حیثیت سے مبعوث ہوئے اور جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے۔آپ تمام بنی نوع انسان کی طرف نہ ختم ہونے والی رحمتوں کو ساتھ لئے بطور نبی کے مبعوث ہوئے۔اس لئے جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت نے انسان انسان میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں کیا۔آپ سب کے لئے ہی رحمت، مومن و کافر کا یہاں سوال پیدا نہیں ہوتا۔جو تعلیم آپ لے کر آئے اُس کا ہر حکم ، امر ہو یا نہی ، مومن کے لئے بھی رحمت ہے اور کافر کے لئے بھی رحمت ہے۔جو احکام آپ لے کر آئے اُن میں سے اس وقت میں کچھ کہوں گا۔انسان کو عمل صالح کا حکم ہے یعنی جو کچھ بھی وہ کرے، خدا تعالیٰ کی ہدایت اور تعلیم کی روشنی میں کرے اور اس تعلیم کی وسعت بہت بڑی ہے۔ہمارے اعمال ہماری زبان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور زبان سے تعلق رکھنے والے اعمال صالحہ بہت سے ہیں۔اُن میں سے میں ایک کو اس وقت لوں گا جس کی بنیادی حیثیت ہے اور وہ ہے ”بولنا“ تعلیم بیر دی کہ (۱) جھوٹ مت بولو۔(۲) دوسرے یہ کہ سچ بولو۔(۳) تیسرے یہ کہ صرف سچ نہیں بلکہ قول سدید ہو۔سچ بھی ہو اور ہر قسم کی کبھی سے پاک بھی ہو۔اور اس پر زائد یہ کہ قول طبیب بھی ہو۔یعنی جھوٹ نہ ہو بیچ ہو، سدید ہو اور طیب بھی ہو۔طیب کے معنی ہیں جو موافق ہو۔یہ موافق ہونا انسان کے مخاطب کو مد نظر رکھ کر بھی ہے یعنی جس ماحول میں باتیں کر رہے ہو اس ماحول میں سننے والوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والی باتیں کرو۔فرمایا۔وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص سے اُس کی عقل کے مطابق بات کرو۔یہ طیب ہی کی تفسیر ہے۔پھر جہاں تک حقوق کا سوال ہے، اسلام نے حقوق کی تعیین اور اُن کی حفاظت کے سلسلہ میں انسان انسان میں کوئی تمیز نہیں کی مثلاً لیاقت کے لحاظ سے انسان میں پیدائشی فرق تو ہے لیکن حکم یہ ہے کہ ہر ایک شخص کو معاشرہ میں اُس کی لیاقت کے مطابق مقام دیا جائے اور اس میں مسلم وکا فر کی کوئی تمیز نہیں۔فرمایا۔ان تُودُّ والأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء: ۵۹) اسلامی تعلیم اہلیت کے مطابق تقرریاں بھی کرتی ہے اور ترقیات بھی دیتی ہے۔اس کی بیسیوں مثالیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ملتی ہیں۔خلفائے راشدین نے اپنے اپنے فن کے ماہرین کو مدینہ بلا کر بہت سے شعبوں کا افسر اعلیٰ مقرر کر دیا حالانکہ