تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 383
یہ توقع ظاہر کی کہ ربوہ کے انصار اور ان کے منتظمین با قاعدہ ایک سکیم بنا کر مجلس مرکز یہ کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے اور اصلاح وارشاد کے مجوزہ پروگرام پر سرگرمی کے ساتھ عمل کرنے اور احمدیت کی نئی نسل کی تربیت اور ان کے ساتھ پیار و محبت اور حکمت کے ساتھ گہرا رابطہ قائم رکھنے کی ذمہ داری پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔خطاب کے آخر میں صدر محترم نے حضور انور کی صحت و تندرستی کے لئے اور خوشیوں اور کامیابیوں سے بھر پور لمبی زندگی پانے کی دعائیں جاری رکھنے کی یاد دہانی کرائی۔خطاب کے بعد سب انصار نے صدر محترم کی اقتداء میں کھڑے ہو کر انصار اللہ کا عہد دہرایا اور دعا کے بعد یہ یک روزہ اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔﴿۵۳) علمی مذاکره کراچی مجلس کراچی کا مذاکرہ علمیہ ۳۱ مارچ ۱۹۸۱ء کو مکرم چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت کی صدارت میں ہوا۔مکرم مولا نا محمد اسماعیل صاحب منیر نے تبلیغ اسلام میں جماعت احمدیہ کی کاوشوں کے بارہ میں اور مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں چودھویں صدی کی اہمیت کی موضوع پر تقریر کی۔تقاریر کے بعد ہر دو حضرات نے سوالات کے جواب دیئے۔نماز اور چائے کے بعد مکرم مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب نے رواں تبصرہ کے ساتھ سلائیڈ ز دکھائیں۔رات سوا آٹھ بجے یہ پروگرام ختم ہوا۔اس تقریب میں پونے دو سو احمدی اور تمیں غیر از جماعت احباب شامل ہوئے۔(۵۴) ضلع ساہیوال میں مجالس مذاکرہ کا انعقاد مکرم صدر مجلس مرکزیہ کی زیر ہدایت مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب ناظم ضلع ساہیوال نے مختلف جماعتوں میں مجالس مذاکرہ کے انعقاد کا انتظام کیا۔صدر محترم نے اس غرض کے لئے مرکزی وفد بھجوایا جو مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف مدیر ماہنامہ انصار اللہ اور مکرم مولوی منیر الدین احمد صاحب سابق مبلغ سویڈن پر مش تھا۔ضلع کی چار جماعتوں میں مجالس مذاکرہ منعقد ہوئیں۔مشتمل اوکاڑہ شہر اوکاڑہ شہر میں اپریل پانچ بجے بعد دو پہر عید گاہ میں مجلس مذاکرہ کا انتظام کیا گیا۔تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم مولوی محمد جلال صاحب شمس مربی سلسلہ نے جماعت احمدیہ کے عقائد پر روشنی ڈالی۔مکرم مولوی منیرالدین احمد صاحب نے غیر ممالک میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کے نتائج بیان کئے اور مکرم مولوی