تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 374 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 374

۳۷۴ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو اپنے سچے پیار اور محبت سے بھر دے اور یہ غیر اللہ کو مٹاتی چلی جائے اور باہر نکالتی چلی جائے یہاں تک کہ بالآ خرموت سے پہلے ہم یہ کہنے کے قابل ہو جائیں کہ جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا مجلس سوال و جواب اسی روز شام کے وقت سوال و جواب کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔اس موقع پر ساڑھے تین صد احباب موجود تھے۔جن میں ایک سو سے زائد غیر از جماعت دوست تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے سوالات کے نہایت مؤثر اور ایمان افروز جواب دیئے۔سوالات مسائل ختم نبوت، وفات مسیح، علامات ظہور مہدی اور جماعت احمدیہ کا الگ نام رکھنے کی وجہ وغیرہ کے متعلق تھے۔مجلس ساڑھے سات سے ساڑھے نو بجے شب جاری رہی۔اختتام سے قبل حضرت صاحبزادہ صاحب نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ کیا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے یا بند کر دیا جائے۔تو کئی غیر از جماعت احباب نے نہایت اشتیاق سے اسے جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔اس پر حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ اس کے بعد آپ کے دلوں میں جو سوال پیدا ہو وہ آپ ہمارے علماء سے پوچھیں۔یہاں راولپنڈی میں ہمارے مربی صاحب موجود ہیں۔آپ ان سے ملیں۔میری ضرورت ہوئی تو میں بھی دوبارہ بلکہ بار بار اس غرض کے لئے راولپنڈی آنے کو تیار ہوں۔پریس میں تذکرہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے خطبہ جمعہ اور تقریر کی رپورٹ روز نامہ تعمیر راولپنڈی کی ۱۳ ستمبر ۱۹۸۰ء کے شمارہ میں مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع ہوئی: اللہ تعالیٰ کو پانے اور اس کی محبت حاصل کرنے کا واحد اور حتمی طریقہ یہ ہے کہ اس کے محبوب اور انسانِ کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور حقیقی پیروی کی جائے اور آنحضور سے محبت کی جائے۔ان خیالات کا اظہار جماعت احمدیہ کے موجودہ سربراہ مرزا ناصر احمد کے بھائی مرزا طاہر احمد نے آج یہاں مسجد نور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اور آپ سے محبت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول اور اس کو پانا بالکل ناممکن ہے۔آپ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو جنتر منتر اور ٹوٹکوں سے نہیں پایا جا سکتا۔اس کے لئے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔مجاہدہ