تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 365
۳۶۵ ہے۔دلوں میں بھرتا ہے، اُس کی رضا اور اس کی خاطر سارے اعمال ہونے لگتے ہیں تب وہ عبادت نہ صرف عبادت بن جاتی ہے بلکہ وہ اعمال بھی جو عبادت نہیں ہوتے ، وہ بھی عبادت بن جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مومن کے انتہائی مقام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔خدا کی خاطر جب ایک آدمی اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے تو وہ بھی اللہ کی عبادت بن جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ اس کی زندگی کی ہر چیز پر خدا کی محبت اور پیار کا جلوہ غالب آ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ خدا کا ہو جاتا ہے،اس کا اپنا کچھ نہیں رہتا۔اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لئے ابتدائے آفرینش کا جو واقعہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے، آدم کا پیدا کرنا، اس میں اس حکمت کو بڑا کھول کر بیان فرمایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ انسان بحیثیت انسان ، آدم سے پہلے بھی بس رہا تھا مگر اس کے اعمال میں، اس کے اخلاق میں توازن نہیں ہوا تھا۔سَوَّيْتُہ کا مطلب ہے کہ جب میں اس تخلیق کو اس طرح متوازن کر لوں کہ اس کے اعمال میں ایک توازن پیدا ہو جائے تو نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحی پھر میں اس کے وجود میں بسنے لگوں۔تب تم اس کو سجدہ کرنا، اس سے پہلے نہیں۔یعنی کائنات کو جو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے، وہ ہر انسان کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے، آسمان کو اور زمین کو اور جو کچھ اس زمین و آسمان میں ہے، ہم نے تمہارے لئے اس کو مسخر کیا ، اس شرط کے ساتھ پیدا کیا۔فَإِذَا سَوَّيْتُه کائنات کی کسی چیز کو اس سے پہلے آدم کے لئے سجدہ کا حکم نہیں ہے کہ آدم اپنی روح کو خدا کے آگے پیش کر دے اور خدا اس میں بسنے لگے۔نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّ وحی کا یہ مطلب ہے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بڑا بھاری سبق ہے۔آپ بھی سرداری کے لئے پیدا کیے گئے ہیں۔آپ بھی آدم ثانی کے ماننے والے ہیں اور اس لئے آپ کو کھڑا کیا گیا ہے کہ ساری دنیا کی طاقتیں آپ کے حضور سجدہ کریں اور آپ کے تابع ہو جائیں۔مگر اس شرط کے ساتھ ہوں گی کہ اپنے وجود کو آپ خدا کے تابع کر دیں اور خدا آپ میں نفخ روح فرمائے اور خدا کے نفخ روح کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی روح آپ کی روح میں رہنے لگے۔خدا کی ذات آپ پر غالب آ جائے۔اس کا آخری مقام وہ ہے کہ انسان کا اپنا پھر کچھ بھی نہیں رہتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتہائی مقام حاصل کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُل اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہ تو لوگوں کو دکھا دے اور بتا دے کہ میری عبادتیں، میری قربانیاں، میرا اُٹھنا اور بیٹھنا، میری زندگی اور میری موت ہر چیز خدا کے لئے ہے۔یہ ہو جائے تو بندے اور خدا میں فرق نہیں رہتا۔پھر بندے کی ذات پر خدا کی