تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 17
۱۷ کے سارے پہلو معلوم ہوں ، روحانیت میرے اندر پیدا ہو، مجھے یہ معلوم ہو کہ میں اپنے جسموں کی اور دوسروں کے جسموں کی صحیح نشو و نما اور تربیت کیسے کر سکتا ہوں۔کس رنگ میں ان کی خدمت بجا لا سکتا ہوں۔یہ دعائیں ہیں خدام کی۔جو بڑے ہیں ان کی یہ دعا ہے کہ اے خدا ہماری ذریت کو اور ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو اپنا بندہ بنا، ان کے دلوں میں اپنا پیار پیدا کر۔ہمارے لئے قرۃ العین ہوں وہ۔ہماری بدنامی کا باعث نہ بنیں۔لوگ یہ نہ کہیں کہ خود تو انہوں نے دینی میدان میں ظاہری رنگ میں باقی دلوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے) بہت بلند مقام حاصل کئے لیکن ان کے بچے خراب ہو گئے۔آنے والی نسلیں آباء کے مقام سے گر گئیں۔یہ دعائیں ہیں ان کی۔اور تربیت کی ذمہ داری دعاؤں کے پہلو بہ پہلو آگے بڑھتی ہے۔جس طرح خدام کے لئے خدمت کی ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ دعا اور خدمت پہلو بہ پہلو آگے بڑھتے ہیں، انصار کے لئے تربیت کی ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ دعا اور تربیت پہلو بہ پہلو آگے بڑھتے ہیں۔اور جماعت کو جو دو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہیں : ایک تو یہ کہ عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے ربّ کریم کی رضا اور اس کی نعماء کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔دعاؤں کے ساتھ اس ذمہ داری کو نباہنے کے قابل بنے کی کوشش کرو کہ ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن اور نور کو متعارف کروانے کی ذمہ داری تم پر ہے اور دعاؤں کے ساتھ خدا سے یہ نعمت حاصل کرو کہ تم واقعہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو سکتے ہو خدا کی نگاہ میں یعنی اس طور سے نقشِ قدم پر چلنے والے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کا صحیح معنی میں اور حقیقی رنگ میں دوسروں کے لئے اسوہ بن جاؤ۔تمہاری زندگیوں کو دیکھ کر اور تمہارے اعمال کو دیکھ کر، تمہارے اسوہ کے حسن کے گرویدہ ہو کر وہ جو ابھی تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سایہ کے نیچے نہیں آئے وہ اس طرف کھچے آئیں۔جذب ہو تمہارے اندر اپنے لئے نہیں چونکہ تمہارا مقام تو نیستی کا مقام ہے ہر دو پہلو سے (۱) اس لئے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تمہارا مقام نیستی کا ہے۔اور (۲) اللہ تعالیٰ کے مقابل تمہارا مقام نیستی ہے۔وہ عظیم ہستی جس کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے اور فنافی اللہ ہوکر نیستی کا مقام حاصل کیا جس مقام پر دنیا فخر کرتی آئی ہے اور فخر کرتی چلی جائے گی۔تو کبر اور غرور نہیں بلکہ خدمت ، عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ تربیت کی توفیق پانا خدام وانصار کا