تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 293
شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔۲۹۳ نئے دستور اساسی کی منظوری صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے دستور اساسی کے متعلق یہ رپورٹ حضرت خلیفة المسیح الثالث کی خدمت میں آخری منظوری کے لئے بھجوائی۔حضرت خلیفہ المسح الثالث مئی ۱۹۸۲ء کے اواخر میں اسلام آباد تشریف لے گئے اور وہاں پر قیام کے دوران ہی چند روز صاحب فراش رہ کر ۸ جون ۱۹۸۲ء کو رحلت فرما گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ۱۰ جون ۱۹۸۲ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب منصب خلافت کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔اُس وقت دستور اساسی کے متعلق متذکرہ بالا سفارشات حضرت خلیفہ اسیح الرابع" کی خدمت میں پیش ہوئیں۔۱۸ جون ۱۹۸۲ء کو حضور نے یہ سفارشات اس نوٹ کے ساتھ مجلس مرکز یہ کو واپس بھجوائیں۔عمومی طور پر تسلی بخش ہے۔مجلس عاملہ میں پیش کر کے آخری منظوری کے لئے پیش کریں۔لیکن اگر کوئی تبدیلیاں ایسی ہوں کہ مجلس شوریٰ انصار اللہ میں ان کا پیش کرنا 66 مناسب سمجھا جائے تو ان کے بارے میں الگ وضاحت کر دی جائے۔“ چنانچہ حضورانور کی ہدایت کے مطابق مجلس عاملہ مرکزیہ نے فوری طور پر اپنے چارا جلاسات ( منعقدہ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ جون ۱۹۸۲ء) میں اس مسودہ پر غور کیا۔مجلس عاملہ نے بالعموم کمیٹی کی رپورٹ سے اتفاق کیا لیکن بعض جگہ پر تبدیلی بھی کی اور بالآخر ے جولائی ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ نئے دستور کو مجلس شوریٰ میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مجلس نے یکم جنوری ۱۹۸۳ء سے اس مجوزہ دستور کے نفاذ کی سفارش کی۔1 ) حضرت خلیفۃ أمسیح الرابع نے بعض قواعد پر ریمارکس دیتے ہوئے مجوزہ دستور اساسی واپس بھجوا دیا۔مجلس عاملہ نے حضور کے ارشادات کی روشنی میں سفارشات مرتب کر کے دوبارہ حضور کی خدمت میں منظوری کے لئے بھجوائیں۔متعلقہ قواعد پر سفارشات اور حضور کے فیصلہ جات درج کئے جاتے ہیں : مجوزہ قاعدہ نمبر ۲۱: علاقہ اضلع مجلس عاملہ علاقہ اضلع مندرجہ ذیل عہد یداروں پر مشتمل ہوگی۔(۱) ناظم (۲) نائب ناظم (۳) نائب ناظم صف دوم (۴) مهتم عمومی (۵) مهتم تعليم۔۔ارشاد حضور انور : «مهتم مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے احترام کے پیش نظر کوئی نئی اصطلاح تجویز کریں۔“ سفارش مرکزی عاملہ مہتمم کی بجائے ”نائب ناظم کی اصطلاح استعمال کی جائے۔مثلاً نائب ناظم عمومی۔