تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 292 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 292

۲۹۲ ۳۔تمام مجالس عاملہ میں صف دوم کی عمر کی تشریح کر دی گئی۔۴۔قواعد بابت مجلس عاملہ ملک و علاقہ میں سے علاقہ کا لفظ حذف کر کے انہیں صرف ملکی عہد یداران کے لئے تجویز کیا گیا۔-۵- مجالس عاملہ علاقہ اور ضلع کے قواعد کو یکجا کرتے ہوئے تجویز کیا گیا کہ علاقہ کا سر براہ ناظم اعلیٰ کی بجائے ناظم علاقہ اور دوسرے عہدیدار معتمد کی بجائے مہتم، کہلائیں۔۔کوئی نام منظوری کے لئے صدر مجلس کو بھجواتے وقت انتخابی اجلاس کی پوری کارروائی ساتھ بھجوائی جانی ضروری قرار دی گئی۔ے۔ناظم علاقہ ضلع کا تقرر انتخاب کی بجائے بذریعہ نامزدگی از صدر مجلس تجویز کیا گیا۔ناظم علاقہ اضلع اور ان کے مجالس عاملہ کی نامزدگی تین سال کی بجائے ایک سال تجویز کی گئی۔۹۔قبل ازیں زعیم اعلیٰ / زعیم اپنے عہدہ کے اعتبار سے مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور وہ مجلس متعلقہ کے لئے مقرر کردہ تعداد میں شامل نہ تھے۔کمیٹی نے تجویز کیا کہ انہیں مقرر کردہ تعداد میں شامل کیا جائے۔۱۰۔مجلس شوری کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے اختیارات جزوی یا کلی طور پر سب کمیٹی یا افراد کو عارضی طور پر تفویض کردے۔ا۔استطاعت نہ رکھنے والے اراکین کا چندہ معاف یا کم کرنے سے متعلق صدر مجلس کا اختیار قواعد میں شامل کیا گیا۔۱۲۔نائب صدر ان کے فرائض و اختیارات دستور اساسی میں شامل کئے گئے۔۱۳۔نائب صدر ملک کے فرائض و اختیارات کے متعلق آٹھ قواعد ترتیب دیئے گئے۔۱۴۔ناظم علاقہ ضلع پر فرض قرار دیا گیا کہ وہ اپنی مجالس میں مرکزی ہدایات کی تعمیل کرائیں۔۱۵ مجلس عاملہ علاقہ ضلع / مقام حلقہ کو عہدیداران بالا کے تجویز کردہ ذرائع اصلاح کے نفاذ کاذمہ دار ٹھہرایا گیا۔۱۶۔دستور اساسی کے قواعد میں ترمیم، تنسیخ یا تبدیلی کرانے کے لئے ضروری قرار دیا گیا کہ مجوزہ تجویز میں وضاحت سے دستور اساسی کے قاعدہ کا ذکر ہو۔۱۷۔تجویز کیا گیا کہ کسی عہدیدار کے پاس ایک سے زائد عہدے ہونے کی صورت میں رائے شماری کے وقت اُس کا ایک ہی ووٹ شمار ہو۔۱۸۔مجلس کے چندہ جات ( مجلس، سالانہ اجتماع ، اشاعت لٹریچر ) کی شرح کا تعین مجلس شوری کر چکی تھی ، اسے دستور اساسی کا حصہ بنادیا گیا نیز اس میں تغیر و تبدل کا اختیار مجلس شوری کو دیا گیا۔۱۹۔مجلس انصار اللہ کے وصول شدہ چندوں کی تقسیم کی شرح ( حصہ مرکز ، حصہ مجالس مقامی وغیرہ) دستور میں