تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 291
اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔) ۲۹۱ دستور کمیٹی کا آخری اجلاس مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۸۲ء ہش رات آٹھ بجے گیسٹ ہاؤس انصار اللہ مرکز یہ میں منعقد کیا گیا جس میں اراکین نے مجوزہ دستور اساسی کو متفقہ طور پر آخری شکل دی اور اپنے اپنے دستخط ثبت کر کے صدر محترم کی خدمت میں پیش کر دیا۔دستور کمیٹی کے پہلے اجلاس اور آخری اجلاس کے درمیانی عرصہ یعنی پانچ ماہ کے دوران مجموعی طور پر ستاون گھنٹے تک کمیٹی کے اجلاسات ( در کنگ سیشن منعقد ہوئے۔اس سارے عرصہ کے دوران اراکین نے نہایت ذمہ داری اور پورے انہماک ، توجہ اور محنت کے ساتھ اس اہم فریضہ کو سرانجام دیا۔﴿۵﴾ رپورٹ دستور کمیٹی کے خصوصی نکات ا۔مجوزہ دستور اساسی میں قاعدہ نمبروں کی ترتیب نو قائم کی گئی اور قواعد میں تسلسل قائم رکھنے کے لئے مختلف عنوانات اور عہدوں سے متعلق تمام قواعد یک جا کر دئیے گئے۔۲۔جہاں زبان کے لحاظ سے تقم یا ابہام محسوس ہوا، اسے دُور کرنے کی کوشش کی گئی۔بعض قواعد میں حک واضافہ کیا گیا۔کمیٹی نے کوشش کی کہ ممکن حد تک دستور اساسی میں کم از کم تبدیلی کی جائے البتہ بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے کچھ نئے قواعد اور چند ایک بنیادی تبدیلیوں کی سفارش کی گئی۔۳۔رپورٹ میں دو کالم بنائے گئے۔پہلے کالم میں مجوزہ دستور اساسی کے قواعد درج کئے گئے۔ان قواعد کے سامنے دوسرے کالم میں موجود دستور اساسی کے متعلقہ قواعد کا حوالہ نمبر درج کیا گیا نیز حسب ضرورت وضاحتی نوٹ بھی درج کر دیا گیا تا موازنہ و مقابلہ میں آسانی رہے۔۴۔مجوزه دستور اساسی کے آغاز میں عنوانات کی فہرست بھی تیارکی گئی۔کمیٹی کی تجویز بھی کہ یہ فہرست بھی دستور کے ساتھ شائع کی جائے تا متعلقہ قواعد کی طرف فوری راہنمائی ممکن ہو۔۵۔موجودہ دستور اساسی میں بنیادی تبدیلیوں اور نئے قواعد کو ایک چارٹ کی شکل میں درج کیا گیا جس سے ان سفارشات کی نوعیت سمجھنے اور موازنہ کرنے میں سہولت پیدا ہوگئی۔مجوزہ دستور کے قابل ذکر قواعد جاتا ہے۔مجوزہ دستور اساسی میں بنیادی تبدیلیاں کرتے ہوئے جو نئے قواعد تجویز کئے گئے ، ان کا مختصراً ذکر کیا ۱- مجالس عاملہ مرکز بیہ، ملک، علاقہ ضلع ، مقام وحلقہ میں آڈیٹر کا عہدہ شامل کیا گیا۔۲۔تمام مجالس عاملہ میں قلمی دوستی کے شعبہ کا اضافہ کیا گیا۔