تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 290
۲۹۰ سب کمیٹی نے متعدد اجلاسات منعقد کئے اور ۱۰ مارچ ۱۹۸۲ء کو بیالیس صفحات پر مشتمل رپورٹ معہ مجوزہ دستور اساسی صدر دستور کمیٹی کو پیش کی۔اس کے بعد دستور کمیٹی نے ماہ اپریل مئی ۱۹۸۲ء کے کئی اجلاسات میں دستور اساسی پر مزید غور کیا۔ان اجلا سات میں شریک ہونے والے اراکین کی اجلاس وار فہرست درج ہے: شرکاء اجلاس منعقده ۱۲۹ اپریل ۱۹۸۲ ء رات پونے آٹھ بجے تا ڈیڑھ بجے مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر کمیٹی مکرم منور شیم خالد صاحب سیکرٹری ہکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی، مکرم شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی مکرم میجر محمود احمد صاحب ،ہکرم ڈاکٹر احمد حسن صاحب چیمہ، مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب ، مکرم ملک لطیف احمد صاحب سرور مکرم دلدار احمد صاحب ، کرم فضل الہی صاحب انوری، مکرم عبدالسمیع صاحب حسنی۔مکرم چوہدری نعمت اللہ صاحب، مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب، مکرم غلام دستگیر صاحب نے بوجہ مجبوری اجلاس سے رخصت حاصل کی۔) شرکاء اجلاس منعقدہ ۳۰ اپریل ۱۹۸۲ء ساڑھے سات بجے صبح تا ساڑھے بارہ بجے دوپہر۔اڑھائی بجے بعد دو پہر تا ساڑھے پانچ بجے شام۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب ، مکرم منور شمیم صاحب خالد مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی ،ہمکرم شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی مکرم ڈاکٹر احمد حسن صاحب چیمہ، مکرم میجر محمود احمد صاحب، مکرم لطیف احمد صاحب سرور، مکرم کرنل دلدار احمد صاحب، مکرم فضل الہی صاحب انوری، مکرم عبدالسمیع صاحب حسنی۔مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب، مکرم چوہدری غلام دستگیر صاحب ، مکرم چوہدری عبد المجید صاحب اور مکرم چوہدری نعمت اللہ صاحب نے اس اجلاس سے رخصت حاصل کی۔) شرکاء اجلاس منعقده ۱۳مئی ۱۹۸۲ ء ساڑھے سات بجے تا سوا دو بجے شب و ۱۴ مئی ۱۹۸۲ء آٹھ بجے صبح تا پونے بارہ بجے دوپہر۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب، مکرم منور شمیم صاحب خالد، مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی ہمکرم کرنل دلدار احمد صاحب، مکرم میجر محمود احمد صاحب، مکرم لطیف احمد صاحب سرور، مکرم چوہدری نعمت اللہ صاحب، مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب ، مکرم عبدالسمیع صاحب حسنی، مکرم شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی ،مکرم مولوی فضل الہی صاحب انوری مکرم ڈاکٹر احمد حسن صاحب چیمہ، مکرم چوہدری غلام دستگیر صاحب اور مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب بوجوہ اس اجلاس میں شریک نہ ہو سکے اور رخصت حاصل کی جبکہ مکرم فضل الہی صاحب انوری بوجہ بیماری ۳ مئی کے