تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 287
۲۸۷ انصار اللہ شامل تھے۔صدر محترم نے فیصلہ فرمایا کہ نمائندگان شوری انصار اللہ کی انتخاب میں شمولیت کی ضرورت نہیں۔کورم کے لئے وقت ہوگی۔“ (ب) قواعد نمبر ۱۲۱ اور ۴۲ میں یکسانیت لاتے ہوئے قاعدہ نمبر ۴۲ میں مذکور فہرست اراکین مجلس شوری میں صحابہ کرام کے الفاظ شامل کر دئیے گئے۔(ج) ملک ، علاقہ ، ضلع اور حلقہ جات کی طرح قاعدہ نمبر ۱۶۹ میں ” مقام“ کے اراکین مجلس عاملہ کے لئے بھی تین سال کی میعاد مقرر کی گئی۔مجلس شوری ۱۹۸۰ء میں زعیم اعلیٰ مقام کے انتخاب سے متعلق قاعدہ نمبر ۱۶۵ زیر بحث آیا۔شوری کے فیصلہ کے مطابق مزید غور کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی گئی۔کمیٹی نے سفارش کی کہ زعیم اعلیٰ کا انتخاب مرکزی نمائندہ یا ناظم ضلع یا پریذیڈنٹ یا اُن کے نمائندہ کی نگرانی میں کروایا جائے۔تاہم اگلے سال ۱۹۸۱ء میں یہ رپورٹ پیش ہونے پر مجلس شوری نے مذکورہ قاعدہ میں بایں الفاظ تبد یلی تجویز کی۔عیم اعلیٰ کا انتخاب مرکزی نمائندہ کی نگرانی میں ہوگا۔“ حضورا نور سے منظوری کے بعد یہ تبدیلی دستور اساسی کا حصہ بن گئی۔اپریل ۱۹۸۱ء میں مجلس عاملہ مرکزیہ کی سفارش پر سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۲۳ میں یہ تبدیلی منظور فرمائی کہ آئندہ نائب قائدین با جازت صدر، عاملہ کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے مگر ووٹ نہیں دے سکیں گے۔(۳) تشکیل دستور کمیٹی پس منظر _ اغراض و مقاصد مجلس شوری ۱۹۸۱ء میں مجلس رجوعہ ضلع جھنگ کی طرف سے حسب ذیل تجویز پیش ہوئی۔دستور اساسی میں بعض سقم اور تقضا د معلوم ہوتے ہیں جن کو دور کرنے کے لئے تجویز ہے کہ مجلس شوریٰ انصاراللہ ماہرین دستور سازی اور اردو دان حضرات کی ایک کمیٹی قائم کرے جو دستور اساسی کو از سر نو تر تیب دے کر مجلس عاملہ مرکزیہ میں پیش کرے۔“ بحث کے دوران حضرت مرزا عبد الحق صاحب رکن خصوصی عاملہ مرکزیہ نے تجویز کے الفاظ کو زیادہ دو موزوں شکل دینے کی تجویز پیش کی جسے شوری نے منظور کیا اور تجویز کے الفاظ یوں قرار پائے: دستور اساسی پر دوبارہ تفصیلی غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی جائے تا اگر اس میں کوئی سقم یا اشکال ہوں تو ان کو ڈور کیا جا سکے۔کمیٹی یہ رپورٹ مجلس عاملہ مرکز یہ میں چھ ماہ کے اندر پیش کرے اور مجلس عاملہ