تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 261 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 261

۲۶۱ چودہ قائدین۔بائیس ناظمین اضلاع اور پندرہ زعماء اعلیٰ اور دس نائبین سمیت کل اکسٹھ عہدیدار شریک ہوئے۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جو مکرم محمد اسلم صاحب نے کی۔بعدۂ صدر محترم نے انصار اللہ کا عہدد ہرایا۔قائدین نے باری باری اپنے شعبہ کے متعلق ہدایات دیں۔صدر محترم نے مجالس کے مسائل و مشکلات کے سلسلہ میں شرکاء سے آراء طلب کیں۔مختلف ناظمین نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف مسائل کا ذکر کیا جس پر صدر محترم نے نہایت مؤثر انداز میں عملی اقدامات اٹھانے کے سلسلہ میں راہنمائی فرمائی۔قائد عمومی نے شرکاء کو بنیادی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہر مجلس کا مرکز سے ماہانہ رپورٹ فارم کے ذریعہ براہ راست رابطہ قائم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہر ناظم ضلع کو فروری کے شروع میں ایسی تمام مجالس کی فہرست ارسال کی تھی۔اس سلسلہ میں بعض ناظمین نے سرگرمی دکھائی اور ایسی کئی مجالس کی بھی رپورٹس مرکز کو آنی شروع ہو گئیں۔لیکن اس سلسلہ میں ابھی بہت محنت اور کوشش اور ذاتی توجہ ورابطہ کی ضرورت ہے۔قائد صاحب عمومی نے کہا کہ دوران سال ایسی تمام مجالس کی کم از کم پچاس فیصد تعداد کو اپنا ضلعی ٹارگٹ بنایا جائے کہ سال کے دوران ان سوئی ہوئی مجالس کو جگا کر مرکز سے براہ راست رابطہ کرنے پر مجبور کیا جائے۔اس موقع پر سوال اٹھایا گیا کہ دیہاتی مجالس ماہانہ رپورٹ فارم کو طوالت کی وجہ سے پر کرنے سے قاصر رہتی ہیں اور رپورٹیں ارسال نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔صدر محترم نے فرمایا کہ اس معاملہ کو جلس عاملہ میں پہلے ہی زیر غور لا کر ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جود یہاتی مجالس کے لئے سادہ ماہانہ رپورٹ فارم تیار کرے گی۔صدر محترم نے فرمایا کہ جہاں عہدیداران ان پڑھ ہوں۔وہاں بے شک رپورٹ انتہائی مختصر بلکہ ایک کارڈ پر لکھ کر ہی بھجوادی جائے اور پھر آہستہ آہستہ مجلس کے تعلق کو پختہ کر کے بلند معیار پر لایا جائے۔شروع میں تھوڑا بوجھ ڈال کر مجالس کے عہدیداران کو ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔نیز ناظمین خود اپنے اور اپنی ٹیم کے ذریعہ مجالس کے دورے کریں۔ہر ضلع میں ٹیم ورک ہونا چاہیے۔زندہ رہنے والی قوموں کی سب سے بڑی نشانی یہی ہوتی ہے کہ خلاء پیدا نہیں ہوتا۔ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا جگہ لینے کے لئے تیار اور پُر عزم ہوتا ہے لہذا ٹیم ورک پیدا کریں۔اس طرح ایک فرد یا افراد کے بدلنے سے کام نہیں رکنا چاہیے۔صدر محترم نے مزید فرمایا کہ ہر ناظم ضلع چھوٹے چھوٹے ٹارگٹ اپنی مجالس کو دے اور اس کام کو منظم بنیا دوں پر استوار کریں۔آپ نے ناظم صاحب ضلع سرگودھا کی کارکردگی کو سراہا اور فرمایا کہ وہاں اس ٹیم ورک کے بہت اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں اور ایک نئی بیداری پورے ضلع میں نظر آ رہی ہے۔