تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 260 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 260

ہوگی۔مثلاً اوّل: ان جگہوں پر کون سے خاندانوں کا احمدیت سے رابطہ رہا ہے۔ان سے روابط قائم کئے جائیں۔دوم: دنیا کی نظر میں جو کمیں کہلاتے ہیں ، ان خاندانوں کے نو جوانوں کو بالخصوص منتخب کیا جائے۔سوم : زمینداروں کے سعید فطرت نو جوانوں کو بھی منتخب کیا جائے۔چہارم : افراد کی فہرست بنائی جائے کہ فلاں فلاں شخص فلاں فلاں کے ذمہ ہے۔طریق تبلیغ: اول: بعض افراد کو چائے پر بلا کر مربی صاحب کو مدعو کیا جائے۔مقامی سطح پر چھوٹی مجالس یہ کام کریں۔مرکز کو اس کی اطلاع کریں۔دوم : لٹریچر مہیا کیا جائے اور مرکز سے حسب ضرورت لٹریچر منگوایا جائے۔سوم : بعض پتہ جات پر براہ راست لٹریچر بھجوایا جائے۔اس کے لئے ایسے اشخاص کا انتخاب کیا جائے جو احمدیوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہوں لٹریچر ملنے پر یہ احمدی دوستوں کو مبلغ بنے پر مجبور کریں گے۔چهارم: غیر از جماعت احباب کو مرکز میں لائیں۔اس کے لئے اگر اخراجات کی ضرورت ہوتو مرکز سے مطالبہ کریں۔اجلاس میں ایک تجویز پیش ہونے پر صدر محترم نے فرمایا کہ پاکستان کے ہر فرد کو احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے ایک ورقہ یا دو ورقہ اشتہار شائع کیا جائے گا۔لہذا ناظمین واپس جا کر ان اشتہارات کو گھر گھر میں پہنچانے کی سکیم تیار کر کے مرکز میں بھجواد ہیں۔مقصد یہ ہے کہ صدی کے اختتام سے پہلے ہر گاؤں میں یہ پیغام پہنچ جائے کہ چودھویں صدی کا امام آ کر چلا بھی گیا ہے اور صدی بھی ختم ہونے کو آئی لیکن افسوس کہ تم ابھی تک انتظار میں بیٹھے ہو۔صدر محترم نے ناظمین کو مجالس کے دورے کر کے کام کی رفتار کا جائزہ لینے کی تاکید کی اور فرمایا کہ دورہ جات کے اخراجات اگر گرانٹ سے بڑھ جائیں تو بل مرکز میں بھجوائیں ، ادا ئیگی کر دی جائے گی۔شعبہ تعلیم : صدر محترم نے فرمایا کہ انصار گھروں میں ترجمہ قرآن کا درس جاری کریں اور ایک ایک دو دولفظوں کا ترجمہ روزانہ یاد کرائیں۔بچوں کو در نشین اور کلام محمود کی نظمیں یاد کرائیں اور باجماعت نمازوں میں اپنے ہمراہ لائیں۔لیکن تربیت میں شفقت نرمی اور محبت کا پہلو غالب رہے۔اجلاس مؤرخہ ۴ اپریل ۱۹۸۱ء ناظمین اضلاع کا اجلاس مؤرخہ ۴ اپریل بروز ہفتہ ( مجلس مشاورت کے درمیانی روز ) بعد نماز عشاء بوقت سوا نو بجے ہال دفتر انصار اللہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی زیر صدارت ہوا جس میں