تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 218
۲۱۸ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَ أَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنَا أَلَا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ۔( ترجمہ ) اور نہ ان لوگوں پر ( کوئی الزام ہے ) جو تیرے پاس اس وقت آئے جب جنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔اس لئے کہ تو اُن کو کوئی سواری مہیا کر دے۔تو تو نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تمہیں سوار کراؤں اور (یہ جواب سُن کر ) وہ چلے گئے اور (اس) غم سے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ افسوس اُن کے پاس کچھ نہیں جسے (خدا کی راہ میں ) خرچ کریں۔کسی پیار سے خدا نے اُن آنسوؤں کو دیکھا ہو گا۔فرماتا ہے وہ میرے بندے روتے ہوئے واپس گئے کہ جانیں لے کر آئے تھے، وہ بھی رد ہو گئیں ، وہ بھی مقبول نہیں ہوئیں۔کیا کریں کہاں جائیں؟ اپنے روپوں پر کبھی ناز نہ کرنا یہ ہے انتآئ ذی القربی اس طرح چندہ دیں گے خواہ وہ انصار اللہ کا ہو خواہ وہ تحریک جدید کا ہو۔خواہ وہ چندہ عام ہو یا چندہ وصیت ہو۔تو یہ چندے ہیں جن پر خدا کی محبت اور پیار کی نظر میں پڑیں گی۔وہ روپے نہیں رہیں گے۔وہ ساری کائنات کی دولتوں سے بڑھی ہوئی دولتیں بن جائیں گی۔اس طرح پیش کرنے کا راز سکھا ئیں۔مجھے چندہ کی زیادتی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ حضرت مصلح موعود کی تعلیم جو میں نے سنی ہے خطبات کے ذریعے اور اب حضرت خلیفتہ اسیح الثالث اس مسئلے کو جماعت پر اتنا کھول چکے ہیں کہ جماعت کے کام تو خدا نے کروانے ہیں تم اپنے روپوں پر کبھی ناز نہ کرنا۔وہم میں بھی نہ مبتلا ہونا کہ ان پیسوں سے خدا نے کام بنانے ہیں۔وہ خدا جو ساری جماعت کا خدا ہے یہی انصار کا بھی تو خدا ہے۔انصار بھی تو جماعت کا ایک معمولی حصہ ہیں۔اس لئے انصار پر بھی خدا اسی طرح فضل کرتا ہے اور پیسوں کی کمی نہیں آنے دیتا۔ایمان میں کمی کا خطرہ ہے۔جو کچھ دیا جاتا ہے اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، اس لئے میں عرض کر رہا ہوں کہ ناظمین اور ان کے کارندے زیادہ توجہ اس بات پر دیں اس سال خصوصیت کے ساتھ کہ وہ دوستوں کو چندہ کا فلسفہ سمجھائیں۔ان کو بار بار بتائیں کہ جو کچھ دینا ہے اس کو پاکیزگی کے ساتھ دو اور یہ محسوس کر کے دو کہ جس خدا نے تمہیں دیا ہے، اس خدا کو تم دوبارہ حساب پیش کر رہے ہو۔اگر جماعت یہ بات سمجھ جائے اور بہت سے عارف لوگ یہ سمجھتے ہیں۔اور بھی آہستہ آہستہ سمجھ جائیں گے تو پھر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بجٹ غلط بنے۔غلط بجٹ بنانے اور غلط آمدنی لکھوانے کی جرات تو کوئی تب کرے اگر نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ بھول جاتا ہو کہ اس نے اپنے بندے کو کیا دیا تھا مثلاً اگر کوئی باپ اپنے بچہ کو پچاس روپے مہینہ جیب خرچ دیتا ہو۔وہ ایک دن اس سے کہے کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی ہے، تم پچاس روپے کا چوتھا حصہ مجھے واپس کر دو تو وہ بچہ آگے