تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 214 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 214

۲۱۴ کے بعد ہاتھ سے پکڑ کر بتانا پڑتا ہے۔اس لئے اس قسم کے دورے کروائیں۔پہلے خود تربیت دیں۔اس کے بعد ان کا نمائندہ اس گاؤں میں جا کے بیٹھے اور جو کہے، وہ کروا کے دکھائے اور پہلی رپورٹ بنوا کے دکھائے اور پھر مرکز کو مطلع کرے کہ ہم نے یہ کام فلاں گاؤں میں کر لیا ہے۔اب ناظمین کہیں گے کہ جی، ہمارے پاس اتنے بڑے کام ہیں۔ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔میں عرض کرتا ہوں کہ جس خدا نے یہ تعلیم دی ہے کہ لا یخلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ:۲۸۷) اس کی جماعت کا کوئی کارندہ بھی اس تعلیم کو بھلا کر آپ پر بوجھ نہیں ڈال سکتا۔میں تو صرف اتنی گزارش کر رہا ہوں کہ آپ جو تو فیق پاتے ہیں ، اس کے مطابق اگر ایک سو میں سے پانچ مجالس کی بھی پہلے مہینے میں اس طرح تربیت کر سکتے ہیں تو پانچ کی کریں۔پانچ مجالس میں سے دو کی کر سکتے ہیں تو دو کی تربیت کریں لیکن حکیمانہ انداز میں ان باتوں کو رجسٹر میں لکھ رکھیں۔“ 66 آپ نے فرمایا "انشاء اللہ تعالی حضرت اقدس خلیفہ امسح سوا گیارہ بجے تک یہاں پہنچ جائیں گے۔میں اس سے چند منٹ پہلے یہ خطاب ختم کر دوں گا۔میں بھی حضور کے استقبال کے لئے باہر جاؤں گا اور باقی قائدین سب سابق باہر تشریف لا کر استقبال کریں۔اس عرصے میں مکرم محترم مولانا عبدالمالک خان صاحب کے سپرد ہو گا سٹیج۔ان کی قیادت میں ہی آپ نعرے بھی لگائیں۔اپنی محبت کا اظہار جس طرح بھی خلوص سے کرنا ہے، کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے حد پیارا اور محبت اور خلوص کی جزائے خیر عطا فرمائے جو خلیفہ وقت کے لئے ہر دل میں موجزن ہے۔عہد کو نباہنا آپ کا کام ہے تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ تربیت کے معاملے میں ہم آپ پر ہرگز زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔اتنا ڈالیں گے جو آپ کہیں گے کہ ہم یہ بوجھ برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اس کے مطابق جب آپ یہ عہد کر لیں تو اس عہد کو نباہنا تو بہر حال آپ کا کام ہے۔تو ناظمین اضلاع مجلس عاملہ میں غور کر کے پہلے یہ جائزہ لیں کہ اگلے دو یا تین مہینے میں ہماری مجالس کی جو کیفیت ہے، اس کو کس حد تک بدلنے کا ہم ارادہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے۔چھوٹے سے کام سے بھی وہ شرما ئیں نہیں۔اگر وہ یہ کھیں کہ ایک مہینے میں ہم نے پانچ مجالس میں ایک ایک با جماعت نمازی کا اضافہ کر لیا ہے تو میرے نزدیک یہ بہت بڑا کام ہے۔خدا کی عبادت مقصود زندگی ہے۔اگر ایک ضلع یہ کہہ دے کہ ایک مہینے میں خدا کے حضور میں نے تحفہ پیش کیا ہے کہ پانچ احمدی