تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 188
۱۸۸ آپ تبلیغ کا مضمون پائیں گے اس طوفان کا ذکر بھی آپ پائیں گے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اور یہ حکیم کا کام ہے کہ جب کسی چیز کا حکم دے تو اُس سے پیدا ہونے والے عواقب سے بھی باخبر کر دے۔تبلیغ کے نتیجے میں امن پھیلنا چاہئیے۔تبلیغ کے نتیجے میں محبت بڑھنی چاہئیے۔یہ مقصد ہے لیکن ہوتا کیا ہے؟ خدا متنبہ کر رہا ہے کہ اس میدان میں بھولے پن میں یونہی نہ چھلانگ مار دینا۔اس کے نتیجہ میں تم پر سختیاں ہوں گی۔بڑی بڑی آزمائشیں پڑیں گی۔بہت بڑے بڑے ابتلاؤں میں ڈالے جاؤ گے۔چنانچه يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس بتا رہا ہے کہ زندگی کے خطرے در پیش ہیں۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اتنے خوفناک خطرے ہیں کہ انسان کے بس میں نہیں ہے آپ کو بچانا۔الله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس سے ایک یہ بھی مفہوم نکلتا ہے کہ خطرہ اتنا عظیم ہے کہ خدا کے سوا کوئی تجھے بچا نہیں سکے گا۔اللہ ہی ہے جس کی طرف تجھے جھکنا پڑے گا۔شدید خطرات میں خدا کے سوا کوئی بچا نہیں سکتا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مبلغ کی زندگی میں اپنے اپنے چھوٹے پیمانے پر ویسے ہی حالات ہوتے ہیں اور ساتھ یہ بھی پیغام اس کو ملتا ہے کہ جب خدا کی خاطر تم مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ہو۔(اس وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس کو مختلف رنگ میں پڑھیں تو یہ یہ چیزیں سامنے آئیں گی۔میں وہ بیان کرنا چاہتا ہوں ) اور خدا کی خاطر تم خطرات مول لو گے تو وہ ایسے شدید خطرات ہوں گے کہ خدا کے سوا کوئی تمہیں بچا نہیں سکے گا۔چنانچہ جماعت کی زندگی میں جتنے بھی ابتلاء آئے ہیں ( آپ اپنی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لیجئے) وہ سارے کے سارے ایسے ابتلاء تھے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ممکن ہی نہیں تھا کہ یہ جماعت بیچ کے نکل جاتی۔کسی کمپیوٹر میں آپ جماعت کے حالات اور مخالفتوں کے حالات ڈال کر دیکھ لیں۔( جو انسان آج کل کمپیوٹر بناتے ہیں ان کو FACTS سے FEED کرتے ہیں۔) تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ تم ہلاک ہونے والے ہو۔کبھی بچ نہیں سکتے اور ہر دفعہ جب بھی خدا کا کوئی پیغمبر آتا ہے۔خدا کی طرف سے آتا ہے۔اس کے نتیجے میں جو ابتلاء ہوتے ہیں وہ ایسے ہی شدید ہوا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں جا کر آپ واپس مڑ کر اپنے تصور کو لے جائیے جو حالات نظر آتے ہیں۔ان کے غالب آنے کا تو کیا سوال ان کی بقا کی راہ میں ہر روز ہر شب حائل تھے۔جتنا وقت گزرتا جاتا تھا اتنا ہی ان کا زندہ رہنا اور بچنا ناممکن ہوتا چلا جاتا تھا۔شدید سے شدید تر دشمنیاں اور شدید سے شدید تر مصائب ان کے سامنے آتے تھے۔لیکن وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا جواز لی ابدی اصول ہے وہ وہاں بھی پورا ہوتا نظر آیا۔پس مبلغ کو خدا تعالیٰ یہ بتا رہا ہے کہ تم تو بہر حال