تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 186
۱۸۶ نا کام ہو جائے گا۔اللہ لوگوں سے تجھے بچانے کی ذمہ داری لیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا فرقوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔اس آیت کریمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو مخاطب کر کے جو انداز اختیار فرمایا گیا ہے۔یہ دراصل ساری قوم کو سُنانے والی بات ہے۔بعض دفعہ اپنے پیاروں کو مخاطب کر کے بظاہر ایک سخت لہجہ اختیار کیا جاتا ہے۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ دوسرے سن لیں اور ان کو کان ہوں کہ اگر ہم اس پیارے کے ساتھ بھی اس معاملے میں یہ سلوک کریں گے یا کرتے ہیں تو پھر تم جوادنی درجہ کے اور دوسرے لوگ ہو کیسے اس فرض کی ادائیگی سے بچ سکتے ہو۔مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر جب تبلیغ فرض کی گئی اور اس حد تک فرض کی گئی کہ فرمایا کہ اس سے ادنی کوتاہی کے نتیجے میں ہم یہ سمجھیں گے کہ تم رسالت کے مقصد میں ناکام ہو گئے ہو۔تو کیا نعوذ باللہ من ذالک۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ایک ڈور کا بھی احتمال ہوسکتا تھا کہ آپ کوتا ہی کرتے۔ہرگز نہیں۔مراد یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر جو چیز فرض کی جا رہی ہے۔آپ کے ماننے والوں کو سنایا جارہا ہے کہ اگر اس رسول سے وابستہ ہو تو اس مقصد میں تمہیں اس رسول کی پیروی کرنی پڑے گی اور اس کی پوری پوری مدد کرنی پڑے گی۔ورنہ یہ عجیب بات بن جائے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اکیلے کو ساری دنیا میں تبلیغ کرنے کا حکم ہو اور ماننے والے آزاد ہوں کہ تم بے شک بیٹھے رہو۔کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ تو بالکل سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔دُور کا بھی اس بات کا امکان نہیں۔چنانچہ دوسری جگہ تمام امت محمدیہ کو بھی اس حکم میں شامل فرما لیا گیا۔صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پیش نظر نہیں اور بہت سی آیات ہیں جہاں تبلیغ کا عام حکم ہے۔کہیں تحریص کے رنگ میں۔کہیں امر کے طور پر۔چنانچہ جو آیات آپ کے سامنے تلاوت کی گئیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تبلیغ اسی طرح فرض ہے جس طرح عبادت فرض ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( حم السجده آیت:۳۴) دُنیا میں بہت سی پیاری باتیں کرنے والے ہوتے ہیں مگر ان سے زیادہ حسین بات کون کر سکتا ہے جو اپنے رب کی طرف بلاتے ہیں۔چنانچہ اور بہت سے مقامات پر بھی مومنوں کو واضح طور پر بھی تبلیغ کا حکم دیا گیا۔جیسا کہ فرمایا اُدْعُ إلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ( انحل آیت ۱۲۶) حضرت مصلح موعود نے اس کی تشریح میں اسی امر کے پہلو پر زور دیا اور فرمایا کہ اذع میں ہر مومن مخاطب ہے اور ہر ایک کو حکم ہے۔یہ فرض کفایہ نہیں ہے کہ جس سے بیچ کر کچھ لوگ یہ سمجھیں کہ باقی