تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 178
۱۷۸ حضورانور تین بج کر چالیس منٹ پر مسجد اقصیٰ کی غربی سمت سے تشریف لائے۔مسجد کے باہر حضور انور کا استقبال صدر مرکز یہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور مجلس عاملہ کے ارکان نے کیا۔حضور کی آمد کے ساتھ ہی سٹیج سے مکرم مولا نا عبدالمالک خان صاحب رکن خصوصی مجلس عاملہ مرکزیہ نے حضور كواهلا و سهلا و مرحبا کہا۔ساتھ ساتھ جملہ انصار نے بھی یہی کلمات دوہرائے۔حضور کی آمد پر سٹیج سے یہ نعرے لگائے گئے۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر ختم المرسلین زنده باد، خاتم الانبیاء زندہ باد، انسانیت زندہ باد، اسلام زندہ باد، احمد بیت زندہ باد۔ان نعروں کے دوران حضور شیخ پر تشریف لا چکے تھے۔جب تک نعرے لگتے رہے حضور انور بھی کھڑے رہے۔جملہ حاضرین حضور انور کے استقبال میں کھڑے تھے۔حضور انور بھی زیر لب نعروں کا جواب دیتے رہے۔بعد ازاں حضور نے احباب کرام کو السّلام عليكم ورحمة الله و برکاتہ کہا اور کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور جملہ انصار کو بیٹھنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔حضور انور کے جلوہ افروز ہونے کے بعد افتتاحی اجلاس کی کارروائی تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوئی جو کہ مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب قائد تحریک جدید نے کی۔بعد ازاں حضور منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔”انصار کھڑے ہو کر اپنا عہد دہرائیں۔تمام انصار کھڑے ہو گئے اور حضور نے انصار کا عہد دہرایا۔بعد ازاں مکرم اعجاز احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود کا شیر میں کلام مع محمد وثناء اسی کو جو ذات جاودانی، ترنم سے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد چار بجے حضورانورمنبر پر تشریف لائے اور اپنا افتاحی خطاب فرمایا۔افتتاحی خطاب حضرت خلیفہ اسیح الثالث حضور نے اپنے خطاب میں جماعت احمدیہ کے بعض بنیادی عقائد کے بارہ میں تفصیلی ذکر فرمایا اس سلسلہ میں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں سے کئی حوالے پیش فرمائے۔آپ نے اعلان فرمایا کہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات اور ہر وصف میں یکتا ہیں اور نسل آدم میں آپ کی کوئی نظیر نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص چھوٹے سے چھوٹا رتبہ اور درجہ بھی حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ حضور کی کامل اتباع نہ کر رہا ہو۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی وہ وجود ہیں جو آپ کے عکس کامل اور روحانی فرزند ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام ، تقریر اور تحریر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت ہے جو ہمیں کسی اور کے دل میں نظر نہیں آتی۔حضرت مسیح موعود نے اس عظیم الشان ہستی کے عشق میں ہمیں معمور کر دیا ہے۔حضور کے اس معرکۃ الآراء خطاب کاملخص حضور ہی کے الفاظ میں ہدیہ قارئین ہے۔