تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 102
۱۰۲ تراشا ہے سنگ کو۔بعض حصوں پر تو زمانے نے اثر کیا ہے۔لیکن بعض حصے ایسے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ لا غَالِبَ إِلَّا الله یہاں کل کندہ کیا گیا ہے اس پتھر پر۔۔۔۔۔خدا تعالی بڑی طاقت والا ہے اور جو چاہتا ہے وہ کر دیتا ہے ط ہر یہ پیار اسلام کے ساتھ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ او محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کے ساتھ۔یہ شان وہاں نظر آئی۔دل بے چین ہو گیا۔۷۰ء کی بات میں کر رہا ہوں۔خدا تعالی دعا کی توفیق دیتا ہے۔اتنی سخت بے چینی اور کرب پیدا ہوا کہ میں ساری رات خدا کے حضور دعا کرتا رہا کہ خدایا! وہ شان تھی اور یا اس ملک میں ایک مسلمان بھی باقی نہیں رہا، اپنی غفلتوں، کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں۔اور میں نے کہا۔اے خدا رحم کر اس قوم پر۔اسلام کی روشنی اور اسلام کا حسن پھر انہیں دکھا اور اسلام کے جھنڈے تلے انہیں جمع کرنے کے سامان پیدا کر صبح کی اذان کے وقت مجھے خدا تعالیٰ نے بڑے پیار سے یہ کہا۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ جو لوگ خدا پر توکل کرتے ہیں ان کے لئے اللہ کافی ہے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِ؟ - خدا تعالیٰ بڑی طاقت والا ہے اور جو چاہتا ہے وہ کر دیتا ہے۔کوئی اس کو روک تو نہیں سکتا نا۔قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا لیکن چیز کے لئے اس نے ایک وقت مقرر کیا ہے۔ہوگا تو سہی یہ یعنی تیری دعا تو قبول کی جاتی ہے لیکن ہوگا اپنے وقت پر۔مجھے تسلی ہو گئی۔۷۰ء میں تعصب کا یہ حال تھا کہ طلیطلہ جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے وہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔یہ جو ہمارا انصار اللہ کا ہال ہے اس سے بھی چھوٹی ٹوٹی پھوٹی ایک مسجد، گردوغبار سے اٹی ہوئی، کوئی دیکھ بھال بھی اس کی نہیں ہو رہی تھی۔اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا مکان تھا۔میں نے کرم الہی صاحب ظفر کو کہا کہ ایک درخواست دیتے ہیں حکومت کو کہ بیس سال کے لئے ہمیں یہاں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں۔وہ مجھے کہنے لگے کہ آپ مانگتے کیوں نہیں کہ ہمیں دے دیں یہ مسجد۔میں نے کہا نہیں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا اپنی مسجد بنانے کی ، اس واسطے مانگنا نہیں۔وہ کہنے لگے۔پھر سو سال کے لئے نماز پڑھنے کی اجازت مانگیں۔میں نے کہا کیا با تیں کرتے ہو! سو سال۔میں سال کے اندر اندر اللہ تعالیٰ انقلاب بپا کرے گا۔۔۔۔اور دس سال نہیں گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی قرب قرطبہ میں مسجد بنانے کی۔ہاں ایک اور چیز بتادوں۔اُس وقت میری نگاہ نے دو جگہ کا انتخاب کیا جہاں ہماری مسجد بن سکتی ہے عوام کی طبیعت کے لحاظ سے، ایک طلیطلہ وہاں تھوڑی دیر کے لئے گئے اور طلیطلہ کے عوام نے ہم سے بڑے پیار کا اظہار کیا اور ایک قرطبہ جس کے