تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 86
۸۶ میں یہ کر سکتا ہوں کہ امیر کراچی کو کہوں کہ تمہیں نقد ساری قیمت دے دیں اور تم وہاں PAY کر دو۔ویسے یہ زیادہ اچھا ہے (اُس کی وجہ میں ابھی بتا تا ہوں ) اور تم یہیں ہو۔جماعت کا نظام ہے۔وہ وصول کریں گے تم سے۔خادم کا یہ کردار ہونا چاہیے کہ پہلی تاریخ کو وہ بغیر یاد دہانی کے آکے پیسے ادا کرے۔اس میں چاہے انصار اپنی علیحدہ کلب بنائیں۔میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلا دور اس سکیم کا جو ہے، اُس میں ہر گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے سارے سیٹ آجائیں۔یہ پانچ خلاصہ ہیں۔کیونکہ ہر کتاب میں سے آیات لے کے جو تفسیر وہاں کی ہوئی ہے، اکٹھی کر دی گئی ہے اور کتب میں حضرت مسیح موعود کا جو منظوم کلام ہے وہ ساری کتب کا خلاصہ ہے۔جب میں سفر پہ جاتا ہوں تو ساری کتب تو میں رکھ نہیں سکتا۔میں عربی کی درنشین، فارسی کی در شین اور اردو کی درمشین رکھتا ہوں۔اس سے میں استفادہ کرتا ہوں۔ہم ایک CONTRADICTION کر رہے ہیں۔ہماری جماعتی زندگی کے اندر آگے ہی آگے بڑھنا ہے۔آج کی ڈاک میں شوری کے ایجنڈا کی یہ تجویز آئی ہے کہ کتا بیں زیادہ شائع نہیں ہوتیں، یہ شائع کریں۔جو شائع ہوتی ہیں تم خریدتے نہیں۔کتابیں میری خواہش یا صدر انجمن کی خواہش یا تحریک جدید کی خواہش یا وقف جدید کی خواہش کے نتیجے میں نہیں چھپیں گی۔وہ تو ڈیمانڈ کے او پر چھپیں گی۔اقتصادیات کا ایک بنیادی اصول ہے اُس سے باہر نکل نہیں سکتے۔جتنا مطالبہ ہوگا اُس کے مطابق چھپیں گی۔اب ایک نمایاں ایک چیز ہمارے سامنے آ گئی ہے جس نے مجھے بہت شرمندہ کیا۔میرا خیال ہے آپ بھی شرمندہ ہوں گے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات چار عنوانوں پر اللہ تعالیٰ، اسلام، قرآن عظیم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔تین سو اٹھائیس صفحے کی ایک کتاب یعنی اقتباسات ہیں، ابھی پچھلے دنوں وہ لندن میں چھپی۔اُس کی ہمیں COST آئی۔خرچ جو ہے وہ۔دو پونڈ پچاس پینی۔یعنی جو بہترین چھاپے خانے نے شائع کی ہے۔نہایت اعلیٰ یعنی جو وہاں کے کتب خانوں میں بہترین قسم کی چھپی ہوئی کتابیں پڑی ہوئی ہیں ، اُن کے ساتھ یہ بھی پڑی ہوگی۔۱۹۷۸ء میں ہمیں وہاں تھا۔ساری چیزوں کا جائزہ لے کے فیصلہ کیا تھا۔ایک تو میں نے وہاں اس وقت یہ حکم دیا تھا کہ بڑی بے شرمی کی یہ بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب رڈی کا غذ پہ آپ شائع کر دیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلے میں کسی اور کی کتاب نہایت اعلیٰ پر شائع کر دیں چاہے وہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ہی ہوں۔یہ کبھی نہیں ہمیں برداشت۔مجھے نہیں برداشت کم از کم۔