تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 49 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 49

۴۹ اصطلاح میں۔ایک وہ جنہیں اس آیت میں الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا کہا گیا ہے۔سچے مومن۔ایک وہ ہیں جو مومن تو ہیں مگر ان کے لئے قرآن کریم نے سچے مومن کا لفظ استعمال نہیں کیا۔لفظ نہ معناً۔اس آیت میں سچے مومنوں کے لئے تین وعدے دیئے گئے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کے حضور ان کے درجات ہیں۔بخشش کا سامان جو یہاں کہا گیا، قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بخشش کے تین بنیادی سامان ہیں۔ایک تو دعا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو انسان جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پاتا ہے اور یہ تمام دوسرے سامانوں کی بنیاد ہے۔دوسرے ہجرت ہے یعنی ہوائے نفس کی یلغار سے بچنا اور دنیا کی طرف مائل ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا اور ہر گندگی کو اپنے وجود سے نکال باہر کرنا اور کوشش کرنا کہ انسان خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک اور مطہر بن جائے۔بخشش کا تیسرا اصولی سامان جس کا قرآن عظیم میں ذکر کیا گیا ہے۔وہ مجاہدہ ہے۔مجاہدہ اپنے نفس کے خلاف بھی ہوتا ہے اور مجاہدہ حقیقتاً ہر اُس طاقت کے خلاف ہے (اصطلاحی معنی میں ) جو طاقت کہ انسان کو خدا سے دور لے جانے کی کوشش کرتی ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ میں نے بخشش کے سامان تمہارے لئے پیدا کر دیئے، میری ہدایت کے مطابق میری رضا کے حصول کے لئے ان سامانوں کو استعمال کرو اور میرے پیار کو حاصل کرو۔تیسری چیز جس کا یہاں ذکر ہے وہ انعام مومنوں کو دیا جائے گا وہ رزق کریم ہے۔محض رزق نہیں کہا۔خدا تعالیٰ بڑا دیا لو ہے اور سب ہی کو دیتا ہے۔مومن ہو یا کا فرکسی سے بخل نہیں کرتا۔کسی کو بھوکا نہیں مارتا۔ہر ایک کی سیری کا اس نے انتظام کیا ہے۔کسی کو جاہل نہیں رکھنا چاہتا۔ہر ایک کے لئے علم کے حصول کی طاقتیں اس نے مہیا کی ہیں۔کسی کو ظلمات میں بھٹکتے دیکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کے لئے نور کے سامان اس نے پیدا کر دئیے۔بندہ خود اپنے آپ کو ان چیزوں سے محروم کر لیتا ہے۔پس اس آیت میں ایک تو سچے مومنوں کا ذکر ہے۔دوسرے اشارہ ان کا جو سچے مومن نہیں۔تیسرے بنیادی طور پر سچے مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انعامات مقرر کئے ہیں ، ان کا ذکر ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا یہاں تین بنیادی ایسے انعامات کا ذکر ہے۔یہاں یہ جو فرمایا کہ مذکورہ صفات رکھنے والے ہی سچے مومن ہیں۔وہ صفات پہلی چار آیات میں یہ بتلائی گئی ہیں۔نمبر (۱) یہ کہ سچے مومن تقویٰ کے حصول کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔تقویٰ کے معنی ہیں ایسے اعمال صالحہ بجالانا جن کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی امان ، حفاظت اور پناہ میں آجائے۔