تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page vi of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page vi

( سابق قائد تعلیم القرآن) شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے بڑی جانفشانی سے اس کام کو آگے بڑھایا اور ابتدائی مسودہ تیار کر کے کمپوزنگ بھی کرائی۔علاوہ ازیں مکرم را نا عبدالرشید صاحب بھی خدمات بجالائے۔محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب صدر مجلس نے جولائی ۲۰۰۴ ء میں سیدنا حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اس عاجز کی منظوری بطور معاون صدر حاصل کی اور تاریخ انصار اللہ کا کام سپر د کیا۔روز نامہ الفضل، ربوہ، ماہنامہ انصار اللہ اور مرکزی ریکارڈ سے مدد لیتے ہوئے مسودہ کی تیاری کا آغاز کیا گیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ اللہ تعالیٰ نے اس ذمہ داری کو سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی اور آج یہ کتاب احباب کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔۱۰ جون ۱۹۸۲ء کواللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو خلعتِ خلافت پہنائی۔حضور نے اپنے بعد مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب ایم اے کو صدر مجلس انصاراللہ مرکز یہ مقررفرمایا۔اس جلد میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دور صدارت ( یکم جنوری ۱۹۷۹ء تا ۱۰ جون ۱۹۸۲ء) کی تاریخ مرتب کی گئی ہے تاہم بعض جگہ یہ تخصیص ممکن نہ تھی لہذا ۱۹۸۲ ء کے پورے تنظیمی سال کو شامل کر لیا گیا ہے۔خاکسار کو بشدت احساس ہے کہ اس مبارک دور کو کماحقہ قلم بند نہیں کیا جا سکا کیونکہ تمام تفاصیل کا ریکارڈ بوجوہ محفوظ نہیں تا ہم جس قدر مواد بھی جمع ہو سکا، اُسے اس جلد میں سمونے کی سعی کی گئی ہے۔اس کتاب میں اُس دور کی مرکزی مساعی، بیرونی مجالس کی سرگرمیوں اور سالانہ اجتماعات کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطابات اور ارشادات نیز صدر مجلس کی ہدایات اور تقاریر کا مفصل تذکرہ کیا گیا ہے۔مجلس شوری کے فیصلہ جات، دستور اساسی کی تشکیل نو مجلس کے مالی نظام اور دیگر شعبہ جات کا تفصیلی ذکر بھی اس کتاب میں شامل ہے۔حوالہ جات ڈھونڈ نے اور مسودہ کی تیاری میں مکرم محمد اسحاق صاحب اور مکرم عبدالمالک صاحب کارکنان خلافت لائبریری ربوہ نے میری معاونت کی۔مکرم انہیں احمد صاحب کا رکن شعبہ کمپیوٹر انصار اللہ نے اپنی فنی مہارت سے اس مسودہ کو کمپوز کیا۔صدر محترم کی ہدایت پر مکرم پروفیسر منور شمیم خالد صاحب ایم اے (نائب صدر ) اور مکرم مولانا محمد اعظم صاحب اکسیر ( قائد اصلاح وارشاد) نے بالاستیعاب مسودہ کا مطالعہ کیا اور مفید مشورے دیئے۔صدر محترم مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم اے نے اپنی مصروفیات کے باوجود نہایت باریک بینی سے مسودہ کو لفظاً لفظاً پڑھا اور ہدایات دیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر جزیل عطا فرمائے۔قارئین کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تصنیف کو خیر و برکت کا موجب اور اراکین مجلس کے لئے مفید بنائے آمین۔