تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page v of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page v

بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ عرض حال سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث حمد اللہ تعالیٰ نے جماعتی تاریخ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تاریخ کا جاننا اور خصوصاً اپنی تاریخ کا جاننا ہم سب کے لئے ضروری ہے کیونکہ کسی انسان اور کسی جماعت کی زندگی اپنے ماضی سے کلیتہ منقطع نہیں ہوتی۔ہماری یہ ایک معمور تاریخ ایک کامیاب تاریخ ہے۔“ (روز نامه الفضل ۱۰ جولائی ۱۹۸۳ء) مجلس شوریٰ انصار اللہ ۱۹۷۲ ء نے فیصلہ کیا تھا کہ مجلس انصار اللہ کی تاریخ مرتب کی جائے۔اس فیصلہ کی تعمیل میں پہلی جلد ۱۹۷۸ء میں منصہ مشہود پر آئی جو ۱۹۴۰ء سے ۱۹۷۸ء تک کے حالات پر مشتمل تھی اور اسے مکرم پروفیسر حبیب اللہ خاں صاحب مرحوم ( سابق قائد تعلیم ونائب صدر ) نے قلمبند کیا تھا۔اب اسی تسلسل میں تاریخ انصاراللہ جلد دوم پیش ہے۔اس جلد میں ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۲ء کے واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ وہ دور ہے جس میں مجلس کو خوش قسمتی سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے ذہین، فہیم اور بالغ نظر قائد کی صدارت نصیب ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو نہایت عالی دماغ اور زبر دست قوت فکر و عمل سے نوازا تھا۔آپ نے مجلس کی بیداری میں اپنی بے پناہ خدا داد صلاحیتوں کا بھر پور استعمال فرمایا۔اس دور میں مجلس کی کارکردگی کو ایک نئی جہت ملی۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے مرکزی سطح پر کام کو جدید بنیا دوں پر استوار فرمایا۔قائدین اور عہدیداران کی رہنمائی فرمائی۔نئے نئے اہداف مقرر کئے اور ان کی بخیر و خوبی تکمیل کے لئے تمام مراحل کی ذاتی نگرانی فرمائی۔آپ نے مجالس سے رابطہ کی بھی ایک نئی تاریخ رقم کی اور قریباً ہر ضلع میں بیسیوں مقامات میں بنفس نفیس تشریف لے جا کر کار کردگی کا جائزہ لیا، موقع پر ہدایات دیں اور اراکین میں نئی روح اور نئی تازگی پھونکی۔خلافت احمدیہ کے بابرکت سایہ اور صدر محترم کی انتھک قیادت و سیادت میں مجلس اپنے فرائض کی ادائیگی میں مستعد رہی اور خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ایک منزل کے بعد دوسری منزل کامیابی کے ساتھ طے کرتی ہوئی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہی اور واقعتا جوانوں کے جوان کی تنظیم بن گئی۔تاریخ انصار اللہ جلد دوم کی تیاری کے سلسلہ میں مختلف اوقات میں کئی احباب نے خدمت کی توفیق پائی۔قائدین مرکزیہ نے اپنے اپنے شعبوں کی تاریخ مرتب کرنے میں مدد دی۔مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر