تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 405 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 405

۴۰۵ نے سندھی زبان میں تقریر کی۔اس کے بعد سوالات کا موقعہ دیا گیا جن کے تسلی بخش جواب دیئے گئے۔آخر میں گزشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک مجلس مذاکرہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس کے خطاب پر مشتمل کیسٹ سنائی گئی۔یہ اجلاس چھ بجے شام تک جاری رہا۔دوسرا اجلاس بعد نماز عشاء منعقد ہوا جس میں مکرم عبدل خان سندھی نے اپنے قبول احمدیت کے دلچسپ واقعات سنائے۔اس موقعہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تقریر بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۸۱ء بھی سنائی گئی۔﴿۸۶ سالانہ اجتماع ضلع گجرات مجالس انصاراللہ ضلع گجرات کا دوروزہ سالانہ اجتماع ۸ - ۱۹ اپریل ۱۹۸۲ء کو جماعت احمد یہ کھاریاں کی نئی تعمیر شدہ مسجد میں منعقد ہوا۔محترم صدر صاحب انصار اللہ مرکز یہ اجتماع میں شمولیت کے لئے مرکز سے تشریف لے گئے۔خدام واطفال کے علاوہ ضلع کی اکسٹھ میں سے تینتالیس مجالس کے تین سو انصار نے شرکت کی۔صدر محترم نے اپنے افتتاحی خطاب میں جماعت احمد یہ کھاریاں کی نئی وسیع مسجد کی تعمیر پر خوشی کا اظہار فرمایا لیکن یہ بھی فرمایا کہ مسجد کو تفاخر کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ یہ تقوی اللہ کے حصول کا ذریعہ ہے اور عبادت الہی کے لئے بنائی جاتی ہے۔اس لئے اس کی تعمیر کے بعد اس کو آباد کریں اور اس کو نمازیوں سے بھر دیں۔آپ نے اپنے خطاب میں نمازوں کی بالالتزام ادا ئیگی پر بہت زور دیا۔آپ نے جماعت کی تمام تنظیموں کو توجہ دلائی کہ وہ باہم مل کر با جماعت نمازوں کا انتظام کریں اور اس کے لئے بھر پور کوشش کریں۔تربیت کی طرف مزید توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جماعت کے ہر فرد کو نماز اور اس کا ترجمہ آنا چاہئے۔کیونکہ جب تک سوچ سمجھ کر نماز ادا نہ کی جائے اس وقت تک خدا سے انسان کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔نماز سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے آپ نے مجالس کو اپنے ہاں نماز مع ترجمہ اور اس کے مختصر مسائل پر مشتمل کیسٹ تیار کر کے ان کی اشاعت کی طرف بھی توجہ دلائی۔اس ضمن میں آپ نے مرکز میں تیار ہونے والی کیسٹ کے بارے میں بھی حاضرین کو مطلع کیا۔عبادت اور نماز کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے صدر محترم نے فرمایا کہ اس کے ذریعہ سے انسان کا خدا سے تعلق قائم ہو جاتا ہے اور جب اس کا خدا سے تعلق قائم ہو جائے تو پھر اسے مخلوق خدا کی محبت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔جماعت کو اس وقت دو بنیادی باتوں کی اشد ضرورت ہے یعنی نمازوں اور ذکر الہی کے ذریعہ خدا سے زندہ تعلق پیدا کیا جائے اور بنی نوع انسان کی خدمت کی جائے۔آپ نے تبلیغ کے اہم فریضہ کی طرف احباب کی توجہ مبذول کراتے ہوئے فرمایا جب مذکورہ بالا باتیں آپ میں پیدا ہو جائیں گی تو پھر تبلیغ خود بخود ہوتی چلی جائے گی اور جماعت ترقی کرے گی اور دنیا کی کوئی طاقت جماعت کی ترقی کو روک نہیں سکے گی۔بعد ازاں مکرم مولانا