تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 401
۴۰۱ اپنی ہر تکلیف یا حاجت اس کے حضور پیش کرے۔اس سے حاجت روائی کی توقع رکھے۔بے شمار نوافل اور بے شمار ذکر الہی کے ساتھ بے شمار درود و سلام بحضور نخر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے اور دیکھے کہ یہ چیزیں اسباب سے زیادہ اثر کرتی ہیں۔نماز جمعہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان غیر از جماعت دوستوں سے ملاقات کی جو مربی ہاؤس میں تشریف فرما تھے اور جن کی تعداد میں تک پہنچ گئی تھی۔ان میں ایک مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر، ایک کالج کے لیکچرر اور نیشنل بنک کے مینیجر بھی تھے۔آپ نے یہاں سوالات کے مدلل اور مبسوط جواب دیئے۔نماز مغرب سے قبل آپ کو الوداع کہا گیا اور آپ کی تشریف آوری پر خیر مقدمی دلچسپ نظم خوب صورت فریم کی صورت میں پیش کی گئی جو مکرم سید احسن اسماعیل صاحب صدیقی نے کہی تھی مگر وقت کی قلت کے باعث سنائی نہ جاسکی۔(۸۰) صدر محترم کی تخت ہزارہ میں تشریف آوری مورخها نومبر ۱۹۸۱ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نصیر پور خورد ( حلقہ تخت ہزارہ) میں پہلی مسجد احمدیہ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شام ساڑھے چار بجے تخت ہزارہ میں رونق افروز ہوئے۔مسجد احمدیہ کے سامنے سینکڑوں بچوں اور بڑوں نے پر جوش نعروں کے ساتھ استقبال کیا۔حضرت میاں صاحب نے پہلے استقبال کرنے والے احباب کو شرف مصافحہ سے نوازا۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔نظم کے بعد مکرم مولا نا عزیز الرحمن صاحب منگلا مربی سلسلہ ضلع سرگودھا نے قبول احمدیت کے نہایت دلچسپ واقعات سنائے۔اس کے بعد حضرت میاں صاحب نے نصف گھنٹے تک خطاب فرمایا بعدہ آپ نے سوالات کے بڑی تفصیل کے ساتھ تسلی بخش جوابات دیئے۔نمازوں کے بعد مکرم بشیر احمد شاد صاحب نے شعائر اسلامی اور جماعتی مساعی سے متعلق سلائیڈ ز دکھا ئیں۔یہ پروگرام بڑا ایمان افروز اور دلچسپ رہا۔دعا کے معا بعد قریباً آٹھ بجے رات تمام مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔اس تقریب میں نصیر پور ، ہلال پور، اور حمہ، بھا بھڑا، رکھ چراہ گاہ، کوریکوٹ ، چھنی تاجہ ریحان، مڈھ رانجھا، کوٹ مومن اور سرگودھا کے احباب نے بڑی کثرت کے ساتھ شرکت کی۔کل حاضری ساڑھے پانچ سو رہی۔مخصوص حالات کے باوجود بعض غیر از جماعت دوست بھی شریک ہوئے۔۸۱ ) سعد اللہ پورضلع گجرات میں صدر محترم کا ورود گجرات سے قریب بارہ میل کے فاصلہ پر سعد اللہ پور میں جماعت نے اپنی نئی مسجد تعمیر کی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس، مقامی جماعت کی درخواست پر اس کے افتتاح کے لئے۱۳ نومبر ۱۹۸۱ بروز جمعہ تشریف لے گئے۔اس گاؤں میں اس سے پہلے مسجد مشترکہ تھی۔جب جماعت نے مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا تو