تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 21
۲۱ فرموده ۱۴ تبوک /ستمبر ۱۹۷۹ء میں مرکزی اجتماع میں انصار اللہ کی نمائندگی کے بارہ میں حسب ذیل ارشاد فرمایا ہے۔” میرے دل میں خواہش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کی تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ خدام اور انصار کے اجتماعات میں ان کی تمام مجالس شرکت کریں۔بعض جماعتیں بڑی ہیں اور بعض بلحاظ تعداد مختصر ہیں۔بعض جماعتیں فعال ہیں اور بعض جماعتیں سست ہیں۔بعض اضلاع کے امراء اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ بوجھ کر ادا کرتے اور بعض سست اور کمزوری دکھانے والے ہیں۔بعض مربی صاحبان کو اللہ تعالیٰ ایثار اور محبت و پیار سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق دیتا ہے۔اور بعض کے دلوں میں خدا کی محبت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن سے اس رنگ کا پیار نہیں کہ جیسے ایک آگ بھڑک رہی ہو۔حالانکہ اگر کسی مربی کے علاقے میں کمزوری ہو تو اس کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جانی چا ہیں۔چاہے ایک مجلس سے ایک ہی نمائندہ کیوں نہ آئے مگر آئے ضرور “ (الفضل ۱۸ستمبر ۱۹۷۹ء) براہ کرم حضور کی یہ آواز اپنے علاقہ میں ہر فرد کے کان میں ڈال دیں اور ان سے تحریری وعدہ لے کر مجھے بھجوا دیں کہ ہر مجلس کی طرف سے کم از کم ایک نمائندہ تو بہر حال آئے گا۔زیادہ جتنے آسکیں اتنا ہی بہتر ہے۔کان اللہ معکم۔اس سلسلہ میں اپنی مساعی سے خاکسار کوضرور اطلاع دیتے رہیں۔“ پہلا دن سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا افتتاحی خطاب سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی مقام اجتماع میں تشریف آوری کے بعد ۲۶ اکتوبر کو ساڑھے تین بجے بعد دو پہر افتتاحی اجلاس کی کارروائی تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی۔اجتماعی دعا اور عہد کے بعد حضور نے افتتاحی خطاب فرمایا۔چونکہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں تھی لہذا حضور انور کے خطاب کو مکرم عبدالعزیز صاحب دینیس مربی سلسلہ نے بہت بلند آواز میں دوہراتے ہوئے دُور دُور تک بیٹھے ہوئے سامعین تک پہنچایا۔سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اسلام ایک حسین مذہب ہے اور اس نے کسی جگہ بھی دُکھ کے سامان پیدا نہیں کئے۔اس لئے انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگیاں اس نمونہ کے مطابق ڈھالیں اور اپنی نسلوں کی صحیح طور پر تربیت کریں۔تشہد وتعوّ ذاور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: انسانوں کو عادتیں بھی پڑ جاتی ہیں۔میں نے ساری عمر اس بات کا خیال رکھا کہ عادت نہ پڑے