تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 347 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 347

۳۴۷ انصار کو منتخب کیا جائے۔جہاں سے وہ بلاک میں پہنچے اور پھر اجتماع میں آئے۔اس طرح سے ان مقابلوں کی ابتداء محلوں کی سطح پر کی گئی اور پھر محلوں کا آپس میں مقابلہ کروا کے بلاک سے انصار کو اجتماع میں حصہ لینے کے لئے منتخب کیا گیا اور یوں ابتدائی مقابلے جیتنے والے اجتماع میں پہنچے۔اس طرح سے اجتماع کے روز ہونے والے مقابلے ربوہ کے چنیدہ انصار کے درمیان ہوئے۔ورزشی مقابلوں، والی بال اور رسہ کشی کے فائنل مقابلوں کے لئے شرقی زون اور غربی زون کے نام سے دو ٹیمیں تیار کی گئیں۔تواریخ طے ہوتے ہی ناظمین نے محلوں کے دورے شروع کر دیئے اور یوں تمام انصار کو ایک ماہ قبل ہی اجتماع میں شامل ہونے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا گیا۔اجتماع میں شرکت اور پروگراموں میں حصہ لینے سے متعلق ہدایات سائیکلو سٹائل کر کے انصار تک پہنچائی گئیں۔مکمل تیاری کے بعد ۲۶ اپریل کو صبح سات بجے تمام انصار پہلے اپنے اپنے محلہ کی مساجد میں جمع ہوئے اور وہاں سے ساڑھے سات بجے ترتیب کے ساتھ مسجد اقصیٰ پہنچے۔اجتماع کا آغاز تنظیم اور نظم وضبط کے ساتھ ہوا۔مسجد اقصیٰ کے اندر بھی انصار تر تیب وارا اپنے بلاک لیڈر کے ساتھ بیٹھے تھے۔آٹھ بجے بلاک وائز حاضری لگائی گئی۔ٹھیک سوا آٹھ بجے صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب مسکراتے چہرے کے ساتھ تشریف لائے اور کارروائی کا با ضابطہ آغاز ہوا۔اجتماع کا آغاز تلاوت سے ہوا جو مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے کی۔بعد ازاں صدر محترم نے عہد دہر وایا۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شیر میں منظوم کلام سے چند منتخب اشعار سنائے۔زعیم اعلیٰ ربوہ مکرم مولانا فضل الہی صاحب انوری نے انتظامات کے بارے میں ایک مختصر رپورٹ میں بتایا کہ ورزشی مقابلوں کے لئے پندرہ اور علمی مقابلوں کے لئے چوہیں انعامات رکھے گئے ہیں اور حاضری میں سبقت لے جانے والے بلاک کے لئے بھی ایک انعام رکھا گیا ہے۔انہوں نے صدر محترم سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ تربیتی اجتماع کے اس تجربہ کو مفید و کامیاب کرے۔آمین۔ازاں بعد مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے اپنی ایک نظم سنائی جو کہ خاص اسی اجتماع کے لئے کہی گئی تھی۔خطاب صدر محترم : پونے نو بجے صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔آپ نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے مجلس مقامی کو یہ اجتماع کرنے کی توفیق دی۔صدر محترم نے کامیاب حاضری پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ انصار بھائی اتنی بڑی تعداد میں اس اجتماع پر آئیں گے۔انہوں نے انتظامیہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدا کا فضل شامل حال نہ ہو تو ہماری سب کوششیں بے شمر رہتی ہیں اور خدا تعالیٰ کا فضل دعاؤں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔معلوم ہوتا