تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 333
۳۳۳ در پیش خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔وکلاء صاحبان نے حضرت میاں صاحب کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنا اور آئندہ خود اپنے طور پر بھی اس قسم کی تقریب منعقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔۱۳ تربیتی اجتماع ضلع ڈیرہ غازی خان مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۹ء بروز جمعہ ضلعی اجتماع میں شمولیت کے لئے صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایک بجے تشریف لائے۔کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے جمعہ پڑھایا۔خطبہ جمعہ میں صدر محترم نے فرمایا کہ احمدیت اس وقت نازک دور سے گزر رہی ہے۔اس لحاظ سے احباب جماعت کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔مخالفین نے امکان بھر کوشش کر کے احمدیت کے سامنے دیوار کھڑی کر دی ہے کہ یہ پودا آگے نہ بڑھ سکے اور یہیں سوکھ جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے مامورین کی جماعتیں کبھی بھی ان حد بندیوں کے اندر نہیں رہیں بلکہ پھیلتی رہی ہیں اور خدا کا منشاء پورا ہوتا رہا ہے۔اب بھی احمدیت کی ترقی کی رفتار کی نہیں بلکہ اُس نسبت سے زیادہ بڑھی ہے جس نسبت سے اسے دبایا گیا ہے۔چنانچہ احمدیت میں ہر روز نئے شامل ہونے والوں کی کثیر تعداد اس امر کی شاہد ہے۔مرکز احمدیت میں غیر احمدی احباب ہر ہفتہ اس کثرت سے آتے ہیں کہ بعض اوقات کارکنان کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ مخالفین کی یہ روکیں خدا تعالیٰ کے منصوبہ کو کمزور کرنے کی بجائے اور زیادہ ترقی کا باعث ہوئی ہیں۔احمدیت کو ہر آن تازہ بتازہ پھل مل رہے ہیں اور یہ پودا تناور درخت ہو چلا ہے۔بیرونی ممالک میں بھی اس کی ترقی کی رفتار تیز ہے اور وہ دن جلد آنے والا ہے جبکہ اسلام اور احمدیت کا غلبہ ساری دنیا میں ہو جائے گا۔نماز جمعہ وعصر پڑھانے کے بعد صدر محترم نے انصار اللہ کے کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔تمام تیرہ مجالس کے زعماء حاضر تھے۔مکرم قائد صاحب عمومی نے مناسب حال تلقین کی اور ماہانہ رپورٹ کارگزاری ہر ماہ با قاعدگی سے ارسال کرنے پر زور دیا۔آخر میں صدر محترم نے جملہ حاضرین کو وعظ ونصیحت کی اور اپنی ذمہ داریاں نبھا ہے، مستعدی سے کام کرنے تبلیغ اور مالی قربانی کے معیار کو بلند کرنے کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔اس موقع پر چند غیر احمدی احباب سے بھی تعارف کرایا گیا۔صدر محترم نے ان کے سوالوں کے جواب تفصیل سے دیئے۔یہ غیر رسمی مجلس پانچ بجے شام تک رہی اور بعد ازاں معزز مہمان واپس تشریف لے گئے۔باوجود شدید گرمی کے حاضری توقع سے زیادہ تھی۔بیرونی مجالس سے یک صد سے زیادہ احباب تشریف لائے۔مقامی احباب معہ مستورات و اطفال سب شریک جلسہ تھے۔حاضری پانچ سو سے کم نہ تھی۔مسجد کا دالان تک بھرا ہوا تھا۔سایہ کے لئے سائبان کا انتظام تھا۔بیرونی مہمانوں کی میزبانی مقامی مجلس نے کی۔(۱۴)