تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 328
۳۲۸ صدر محترم کا دورہ کراچی صدر محترم نے ۲۸ جون تا ۵ جولائی ۱۹۷۹ء مجلس انصار اللہ ضلع کراچی کی دعوت پر کراچی کا دورہ فرمایا۔یہ دورہ دو خصوصی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا تھا۔) اجتماع انصار اللہ میں صدر محترم کی شمولیت (ب) جماعت کراچی کے ہر طبقہ کے ذریعہ اصلاح وارشاد کے پروگراموں کی ترویج آپ کا یہ آٹھ روزہ دورہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت مفید اور کامیاب رہا۔اس دوران آپ نے متعددا جلاسات میں شرکت کی اور خطاب فرمایا۔خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا، تبلیغی نشستوں میں سوالات کے جوابات دیے، مذاکرہ علمیہ میں لیکچر ز دیئے اور عہدیداران کو ضروری ہدایات سے نوازا۔دورے کا تفصیلی پر وگرام یہ تھا: ۲۸ جون مذاکرہ علمیه بر موضوع وفات مسیح ناصری بعد نماز مغرب مسجد احمد یہ عزیز آباد۔۲۹ جون : تربیتی اجلاس مجلس انصار اللہ ضلع کراچی بمقام احمد یہ ہال بعد نماز عصر۔۳۰ جون: خطاب لجنہ اماءاللہ کراچی بمقام احمد یہ ہال بعد نماز عصر۔۳۰ جون: مذاکره علمیه بر موضوع جماعت احمدیہ کے عقائد بمقام احمد یہ ہال بعد نماز مغرب۔۴ جولائی: تبلیغی نشستیں ۵ جولائی: مذاکرہ علمیہ بر موضوع اسلام کا مستقبل، بمقام ہوٹل انٹر کانٹی نینٹنل کراچی سالانہ اجتماع ضلع کراچی مجلس انصار اللہ ضلع کراچی کا سالانہ تربیتی اجتماع ۲۹ جون کو بعد نماز جمعہ منعقد ہوا۔یہ اجتماع دو اجلاسوں پر مشتمل تھا۔صدر محترم نے پہلے اجلاس کی صدارت فرمائی اور اجتماع کا افتتاح فرمایا۔صدر محترم نے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ جب ہمارے خدام انصار کی عمر کو پہنچتے ہیں تو وہ ایسے طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں جیسے کہ وہ اب ریٹائر ہونے کی عمر کو پہنچ چکے ہوں۔ان کے عمل سے ذمہ داری کے فقدان کا اظہار ہوتا ہے جو سراسر غلط ہے۔آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی پر غور کریں تو ایسے لگتا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا گیا، حضور کے کام کی رفتار تیز ہوتی گئی اور آپ کی کیفیت اس مسافر کی طرح تھی جو سفر کر رہا ہو اور کبھی وہ سورج کو دیکھے اور کبھی اپنے فاصلے پر غور کرے جو اس نے ابھی طے کرنا ہے۔آپ کی اس حالت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا انتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِى لَا يُضَاعُ وَقْتُه تو وہ بزرگ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔حقیقت یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سارا وقت دین کے لئے خرچ ہوتا تھا اور پھر بھی دل میں یہ بے چینی کہ شائد میرا وقت ضائع نہ ہورہا ہو۔اس پر اللہ تعالیٰ نے محبت کے رنگ میں مذکورہ بالا الفاظ میں