تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page iii
بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ پیش لفظ سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی مصلح موعود رضی اللہ عنہ ارشاد فر ماتے ہیں: اقوام کی ترقی میں تاریخ سے آگاہ ہونا ایک بہت بڑا محرک ہوتا ہے اور کوئی ایسی قوم جو اپنی گزشته تاریخی روایات سے واقف نہ ہو، کبھی ترقی کی طرف قدم نہیں مار سکتی۔اپنے آباؤ اجداد کے حالات کی واقفیت بہت سے اعلیٰ مقاصد کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔“ (اسلام میں اختلافات کا آغاز ) مجلس انصاراللہ جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیم ہے جس کی بنیاد سیدنا حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے رکھی تھی اور پھر خلفائے احمدیت نے اپنی ذاتی نگرانی اور توجہ سے پروان چڑھا کر اسے کامیاب اور فعال تنظیم بنادیا۔انصار اللہ کا نام تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت میں اپنے پاک نمونہ کی وجہ سے نہایت تابناک ہے اور اس سے بہت ایمان افروز اور روح پر در روایات وابستہ ہیں۔ان روایات کو اگلی نسل تک منتقل کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری کی تعمیل کی غرض سے مجلس شوریٰ انصاراللہ ۱۹۷۲ء میں تاریخ مجلس انصار اللہ مرتب کرنے کا فیصلہ ہوا۔اس فیصلہ کی رو سے مجلس نے ۱۹۷۸ء میں ” تاریخ انصار اللہ شائع کی جس میں ابتداء سے ۱۹۷۸ء تک کے حالات شامل تھے۔اس کے بعد کی تاریخ ابھی تک تشنہ تکمیل تھی۔کی دوسری جلد کا کام جاری رہا۔آپ تاریخ مرتب کرنے والوں کو مسلسل تفصیلی ہدایات دیتے رہے۔محترم چوہدری صاحب نے اپنے دور صدارت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔تاریخ کی ترتیب و تدوین کے لئے مختلف اوقات میں کئی احباب کام کرتے رہے۔ان میں سے خاص طور پر شکریہ کے مستحق ہیں۔اسی طرز