تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 212
۲۱۲ ہیں کیونکہ بستر مرگ والوں کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو جس خدا کا تصور پیش کرتے ہیں، اس پر روح وجد میں آکر مست ہو جاتی ہے۔حضور فرماتے ہیں کہ وہ بوڑھا جس کے بال سفید ہو چکے ہیں اور آخری عمر کو پہنچ چکا ہو، جب وہ دعا کرتا ہے تو خدا شرما جاتا ہے کہ میں کیسے انکار کروں۔دیکھیں! حضرت زکریا علیہ السلام نے اس فن کو کیسے استعمال فرمایا: رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَ لَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم:۵) کہ اے میرے آقا! میری تو ہڈیاں گل گئیں بڑھاپے کی وجہ سے اور سر بھڑک اٹھا ہے۔لیکن اپنے بندے کا عجز بھی دیکھ اور اپنے بندے کا تو کل بھی تو دیکھ کہ آج تک دعا سے مایوس نہیں ہوا۔ایسی عظیم الشان دعا تھی کہ عرش کے پائے ہلا دیئے اس نے۔ناممکن کوممکن کر کے دکھا دیا۔بوڑھا خاوند، بوڑھی بانجھ عورت اور اسی سے خدا نے کہا کہ ہم تجھے ایک بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں۔پھر انہیں ایک عظیم الشان بیٹا عطا ہوتا ہے جو بیٹی بنادیا گیا۔ہمیشہ کی زندگی پانے والا۔چونکہ آپ کو شہادت نصیب ہوئی تھی اس لئے بیجی نام میں یہ پیشگوئی بھی موجود تھی کہ ہم تمہیں ایک ہمیشہ کی زندگی پانے والا بیٹا دے رہے ہیں۔بہر حال جو بھی شکل ہے، میں کہتا ہوں، اگر دعا کا فن سیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا ایک ذرہ بھی بیکار نہیں ہے۔ان بڑھوں کے پاس جا کر عاجزی کیا کریں کہ بابا! خدا کے لئے ہمارے واسطے دعا کرو۔ہمیں کچھ تو فیق نہیں ہے۔کام بہت زیادہ ہے۔دعائیں کر کے ہمارے ساتھ شامل ہوں اور پھر رپورٹ میں لکھیں کہ فلاں ناصر بزرگ کے پاس جا کر دعا کروائی، اس کو بھی دعا کی عادت ڈالی اور اللہ کا فضل ہو گیا۔اگر وہ پہلے دعا کا عادی نہیں تھا تو اب عادی بن گیا ہے اور ہمیں خدا کے فضل سے اس کی دعاؤں سے فائدے بھی پہنچنے شروع ہوں گے اور پہنچیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔کسی کو بریکار نہیں سمجھنا تو کسی کو بیکار نہیں سمجھنا۔یہ ہے بہت ہی اہم بنیادی پیغام اور اس سلسلے میں آگے بڑھ کر آپ ان سے استفادے کی راہیں ڈھونڈیں۔جب انسان کسی چیز کو بیکار سمجھ کر رڈی میں پھینک دیتا ہے تو اس کے فائدے کا سوچتا بھی نہیں۔اور جو قو میں زندہ ہوتی ہیں وہ اپنی گندی سے گندی چیز کو بھی بیکار نہیں سمجھتیں ، ان سے بھی فائدے اٹھا جاتی ہیں۔اب گند سے کھا د لی جارہی ہے۔جاپان کے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہاں غسل خانوں میں تھیلیاں لٹکی ہوئی ہیں پبلک کی جگہوں میں جہاں لوگ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں اور زمینداروں نے خود بوتھ بنا کے تھیلیاں لٹکائی ہوئی ہیں۔کہتے