تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 211
۲۱۱ آسان کام کے ذریعے کام کو آگے بڑھائیں تو میری مراد یہ ہے کہ ہر مجلس کی توفیق دیکھ کر اس کے لئے لائحہ عمل میں سے ایسا کام تجویز کرنا جو اس کی طاقت میں ہو اور وہ بشاشت کے ساتھ اس کو قبول کرے اور کہے کہ ہاں میں اس کو کرسکتا ہوں، یہ ہے ایک حکیم، صاحب نظر ناظم ضلع کا کام اور اسے اپنے ساتھیوں کوٹرینگ دینی پڑے گی۔ناظم ضلع اکیلا تو ہر جگہ پھر نہیں سکتا۔کوئی کہیں کام کر رہا ہے، کوئی کہیں کام کر رہا ہے۔ایک ٹیم بنانی پڑے گی۔اپنے کام کو آسان کرنا پڑے گا۔پھر اس آسان کام کے ذریعے کام کو آگے بڑھانا پڑے گا۔پھر یہ بھی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم کتنی مجالس میں کتنی دیر میں پہنچیں گے۔ضروری نہیں ہے کہ پہلے سال ہی تمام مجالس تک اس ٹیم کی بھی پہنچ ہو سکے۔کیونکہ بہت کام ہے۔آگے جا کر میں بتاؤں گا۔چھوٹا چھوٹا کام بھی بہت بڑھ جائے گا۔تو حصہ رسدی تقسیم کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک مجلس کے سپر دسارے شعبے پہلی ہی ملاقات (VISIT) میں، پہلی دفعہ ملنے پر نہ کئے جائیں۔مثلاً ایک آدمی ہے۔اگر آپ نے اس کو تھوڑ اسا تعلیم کا کام دے دیا اور گنڈے کھٹکھٹانے کا کام بھی دے دیا تو اس پر کافی بوجھ ہے۔جس کو عادت نہیں، اس کے لئے تھوڑا سا بھی کافی بوجھ ہوا کرتا ہے۔پہلے اس میں بشاشت پیدا ہونے دیں۔اپنے مرکزی رجسٹر میں یہ کھیں کہ فلاں مجلس ، جس کا یہ نام ہے، اس میں اتنے انصار ہیں۔ان کے سپرد ہم نے تربیت تعلیم اور تبلیغ کے یہ یہ کام کئے ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔اگلا کام یہ ہے کہ یہ کام معین کرنے کے بعد وہ مرکز کو اطلاع کریں کہ فلاں مجلس سے آپ اس رپورٹ کی توقع رکھیں۔اگر اس بارے میں وہ رپورٹ نہیں کرتی تو پھر وہ اپنے وعدے سے منحرف ہوگئی ہے پھر ہمیں لکھیں ، ہم جائیں گے۔پس آپ ان مجالس کو سمجھا ئیں۔ان کو کہیں کہ تمہارے لئے رپورٹ فارم خواہ کتنا چھپا ہوا ہو، اس وقت صرف اتنا ہے کہ تم نے یہ بتانا ہے کہ اپنے بچے سے کتنی دفعہ پڑھا تھا۔تربیت کے ضمن میں کتنے گھروں کی کنڈیاں نماز پڑھوانے کے لئے کھٹکھٹائی تھیں اور پیغام مسیح موعود دینے کے لئے تم نے کتنے گھروں کو بیدار کرنے کی کوشش کی تھی۔گفتگو کر لی۔پیغام پہنچا دیا۔جو تو فیق تھی ، کیا۔اگر کوئی یہ رپورٹ مہینہ میں ہر روز نہیں کرتا اور پانچ دن ، دس دن بھی کرتا ہے تو ایک بڑی بھاری مضبوط رپورٹ بن جائے گی اور بڑی فائدہ مندر پورٹ ہوگی۔جماعت احمدیہ کا ایک ذرہ بھی بیکار نہیں میں نے تربیت کے سلسلے میں ایک مثال پہلے بھی بیان کی تھی ، اب دوبارہ بیان کرتا ہوں۔بوڑھے بریکار نہیں ہیں۔جماعت احمدیہ کا ایک ذرہ بھی بیکار نہیں ہے۔جو بستر مرگ پر پڑے ہیں وہ بھی بیکار نہیں