تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 187
۱۸۷ نیکیوں میں ہم حصہ لے رہے ہیں۔نمازیں پڑھ رہے ہیں۔چندے دے رہے۔تبلیغ نہ بھی کریں تو کیا فرق پڑتا ہے بلکہ ہر مومن اس میں مخاطب ہے اور ہر ایک پر تبلیغ اسی طرح فرض ہے جس طرح عبادت فرض کی گئی ہے۔اور اس لئے بھی فرض ہے کہ تبلیغ تو جہاد کا اول حصہ ہے۔ظاہری جہاد کی تو کبھی کبھی ضرورت پڑتی ہے لیکن مومن تو کسی وقت بھی جہاد سے فارغ نہیں ہوتا۔اور قرآن کریم مسلسل مومن کو جہاد کی تعلیم دے رہا ہے تو وہ وقت جو امن کے وقت میں بظاہر، وہ وقت جب تلوار نہیں اٹھ رہی ہوتی اس وقت مومن کا جہاد ہی تبلیغ ہے۔پس تبلیغ کے فریضے سے کسی وقت بھی کسی کا غافل رہنا جائز نہیں ہے۔اگر ویسے کوئی انسان فرض چھوڑ دے بظاہر وہ سمجھتا ہے کہ اس کا نقصان نہیں پہنچتا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ فرائض کوئی ایسی چیز نہیں جن کے چھوڑنے یا نہ چھوڑنے سے نقصان کوئی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ احمدی جو تبلیغ کرتے ہیں اور وہ احمدی جو تبلیغ نہیں کرتے ان دونوں کے حالات پر اگر آپ غور کریں۔ان کی اولادوں کے مستقبل اور ان کے حالات پر غور کریں ، ان کے اقتصادی اور دوسرے حالات پر غور کریں تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ زمین و آسمان کا فرق ہے اس احمدی میں جو تبلیغ کرتا ہے اور اس میں جو تبلیغ نہیں کرتا۔بے انتہاء برکتیں وابستہ ہیں اس کے ساتھ۔اور فرض چیزی بھی کی جاتی ہے جب اس کے نتیجے میں کوئی ایسی چیزیں حاصل ہوتی ہوں جن کے فقدان سے انسان نا مکمل ہو جائے۔پس تبلیغ اسی طرح فرض ہے جس طرح عبادت فرض ہے۔جس طرح روزے فرض ہیں۔جس طرح حج فرض ہے۔اور اس سے کوئی مفر نہیں ہے۔اس سے بیچ کے کوئی انسان کامل مومن نہیں بن سکتا۔یہ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی اور آپ کے اعمال سے سو فیصد ثابت ہے۔حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور آپ کے رفقاء کی زندگی اور ان کے اسوہ حسنہ سے یہ چیز اس طرح روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ اس میں کوئی بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔تبلیغ کے نتیجہ میں ابتلا اب میں اس آیت کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔اور قرآن کریم پر غور کرنے سے یہ عجیب پُر لطف بات معلوم ہوتی ہے کہ جہاں بھی تبلیغ کا مضمون بیان ہوا ہے وہاں یہ دوسرا پہلو بھی ساتھ ہی بیان فرما دیا۔( تبلیغ ) فرض کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ معایہ فرماتا ہے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) خدا تجھے لوگوں سے بچائے گا۔درمیانی حالت کا بظاہر ذکر موجود نہیں۔لیکن ”بچانے سے پتہ چلا کہ ایک طوفان برپا ہونے والا ہے۔تبلیغ کے نتیجہ میں اور جہاں بھی