تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 182 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 182

۱۸۲ والا ہے اور سب کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اُس نے خدا سے مانگا اور خدا نے اُسے دیا۔اس لئے نہیں دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی کو کھڑا کرنا تھا۔اس لئے دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ( جسے دُنیا بھول چکی تھی ) سے دوبارہ دنیا کو روشناس کیا جائے۔حضرت مسیح موعود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس کامل ہیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم كافة الناس مبعوث ہوئے۔ساری دُنیا کو آپ نے مخاطب کیا۔آپ کے یہ روحانی فرزند جو ہیں، انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو کچھ اس طرح پکڑا کہ خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کہ ایک ایسا غلام آپ کا پیدا ہو جو آپ کی طرح ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے اپنی کمر کے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پچن لیا۔یہ ہے ہمارا عقیدہ۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ امتی نبی ہیں۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس کامل ہیں۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ پہلے بزرگ گزرے وہ بھی عکس تھے مگر عکس کامل نہیں تھے جیسا کہ اُن کی زندگیوں کی تاریخ ہمیں بتا رہی ہے۔جو شخص اپنی کوشش اور سعی اور جد و جہد اور عشق کی مستی میں ایک خطہ ارض میں چکر لگا رہا ہے ، وہ اس کے ساتھ کیسے مل جائے گا جس کی ساری دنیا میں آواز گونج رہی ہے۔پس آپ اتنی نبی تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔آپ کے رُوحانی فرزند تھے۔محبوب تھے آپ کے۔امت مسلمہ جس میں کروڑوں خدا رسیدہ اولیاء پیدا ہوئے اور بڑے پایہ کے پیدا ہوئے ، اپنے اپنے رنگ میں۔اُن سب میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ صرف ایک پر پڑی اور اس کے متعلق فرمایا کہ جب اُسے ملو میرا سلام اسے پہنچا دو۔تیسرا ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں امتی نبی صرف ایک ہوگا۔جو آنا تھا وہ آ گیا۔بزرگوں کو دیکھو۔امت مسلمہ میں جو مجدد پیدا ہوئے تھے، ان پر بھی جب سو سال گزرگیا اُن کا زمانہ ختم ہو گیا۔پھر نئے آنے والوں نے نئے سرے سے شروع کر دیا کام تسلسل ختم ہو گیا۔اُن کا کام بھی ختم ہو گیا۔اُن کی افادیت بھی ختم ہو گئی۔اُن کے اثرات بھی ختم ہو گئے۔وہ ایک خاص زمانے کے لئے ایک خاص خطہ ارض کے لئے تھے۔جس کے سپر د خدا یہ کام کرے کہ ساری دُنیا میں اسلام کو غالب کرو اور اُسے یہ کہے کہ تیری جماعت کو زندگی صرف سو سال کی دوں گا۔کام تیرے سپر د تین سوسال کا ہے اور زندگی ایک سوسال کی۔خدا تعالیٰ تو یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ کوئی نقص اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔اس لئے حقیقت یہ ہے کہ یہ امتی نبی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں کچھ اس طرح تڑپا کہ خدا نے ایک ہزار سال کے لئے اُسے اُمتی نبی اور مجددالف آخر بنا دیا۔۔۔۔