تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 163 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 163

۱۶۳ جس نوجوان نے مقابلہ کا امتحان دینا ہو وہ مقابلے کی تیاری کیا کرتا ہے۔کیوں کرتا ہے؟ اس لئے کرتا ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے اور کامیابی کے نتیجہ میں اُسے بہت سے انعامات ملیں۔تو اس سے زیادہ انعامات جہاں ملنے کا سوال ہو وہاں کیوں نہیں وہ پڑھتا ؟ اصل تو ہمارے پاس ایک ہی کتاب ہے۔قرآن عظیم اور وہ گنب جو قرآن کریم کے معانی بیان کرنے کے لئے لکھی جاتی ہیں یا وہ باتیں جو قرآن کریم کی طرف توجہ دلانے کے لئے کہی جاتی ہیں۔باقی تو سارے کھلونے ہیں۔تو جس کو پیار نہیں ہے اپنے پیشے اور اپنے مضمون کے ساتھ اور اپنی زندگی کے ساتھ، وہ توجہ نہیں کرے گا۔لیکن جو شخص ایسا ہو جسے پیار ہو اور ہر احمدی کے دل میں ایسا پیار ہونا چاہئے۔پیار ہو اپنی زندگی کے ساتھ۔اور یہ جانتا ہو کہ زندگی یہاں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اُس نے مرنے کے بعد آگے چلنا ہے۔اُسے یہ کوشش کرنی پڑے گی کہ وہ نعماء جو مرنے کے بعد اُخروی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں اور موعودہ ہیں یعنی جن کا وعدہ قرآن کریم میں دیا گیا ہے۔اُن کے حصول کے لئے جوطریق بتائے گئے ہیں اور جو شرائط رکھی گئی ہیں، میں اُن کی طرف توجہ کروں۔جس شخص کو پتہ ہی نہیں ہو گا وہ کام کیسے کرے گا۔ہر عمل کی بنیاد معرفت پر ہے۔یعنی اُس کو پتہ ہونا چاہئے کہ کیوں کروں۔یہ علم ہے کیا؟ ہر عمل کی بنیا د معرفت پر ہے۔اگر معرفت عرفان۔شناخت کا علم نہ ہو تو عمل ہو ہی نہیں سکتا۔جس شخص کو یہ پتہ نہیں کہ موٹر کیسے چلاتے ہیں۔وہ موٹر نہیں چلا سکتا۔جس شخص کو یہ پتہ نہیں کہ ہوائی جہاز کیسے چلایا جاتا ہے۔وہ ہوائی جہاز نہیں چلا سکتا۔جس شخص کو یہ علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی کونسی راہیں کھولی ہیں وہ اُن را ہوں پر چل ہی نہیں سکتا۔یہ ایک موٹی بات ہے۔تو کیوں نہیں توجہ کرتے۔تربیت کے کام تو ابھی بہت رہتے ہیں۔انصار کا یہ تربیتی کام نہیں کہ وہ جو عمر کے لحاظ سے اُن کے ہیں اُن کی تربیت کا خیال رکھیں ؟ اس رپورٹ میں غالباً یہ فقرہ نہیں آیا کہ کوئی DEPENDENTS احمدی اپنے بچوں سے تربیت کے معاملہ میں غافل نہ رہے۔“ پھر حضور کے ارشاد پر ناظم اعلیٰ صاحب نے اصلاح وارشاد کے کام کی رپورٹ پڑھی اور بتایا کہ اس کام کی طرف توجہ ذرا گھٹ گئی ہے۔حضور نے دریافت فرمایا کہ یہ احساس انصار کو ہوا یا اُن کے عہدیداروں کو ہوا۔عرض کیا گیا کہ یہ عہد یداروں کو ہوا۔حضور نے فرمایا۔اس کا مطلب ہے جن لوگوں کو ہم دعوت دیتے ہیں ، وہ قبول نہیں کرتے اور کم آتے ہیں۔ویسے عزم اور ہمت کی کمی ہے۔اصل یہ ہے PERSONAL CONTACT اور واقفیت پیدا کریں۔یہ