تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 100
سے کہیں زیادہ تھی۔پنڈال کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور اس سے باہر ایک کثیر تعداد حاضرین کی موجود تھی۔حضور انور نے منتظمین و ارشاد فرمایا کہ قناتیں ہٹا کر ٹھیک طرح لپیٹ دی جائیں تا کہ سب لوگ اطمینان سے بیٹھ کر کارروائی سن سکیں۔حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر مکرم قاری محمد عاشق صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی اور مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب قائد تحریک جدید نے پہلے کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے چند اشعار سُنائے اور پھر اپنی ایک استقبالیہ نظم پیش کی۔بعدہ انصار نے حضور کی اقتداء میں اپنا عہد دہرایا۔﴿۳۶﴾ حضرت اقدس کا افتتاحی خطاب ٹھیک چار بج کر دس منٹ پر سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے اپنے بصیرت افروز افتتاحی خطاب میں تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اپنے حالیہ دورہ یورپ، افریقہ وامریکہ کے پس منظر اور واقعات سے انصار کو آگاہ فرمایا اور احمدیت کے حق میں رونما ہونے والی عظیم الشان تبدیلیوں کا رُوح پرور اور پر کیف تذکرہ فرماتے ہوئے اس تاثر کا اظہار فرمایا کہ جماعت کو ایثار پیشہ اور ذہن مبلغین کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔حضور نے فرمایا: ۲۶ جون کو میں ربوہ سے سفر پر روانہ ہوا تھا اور ۲۶ اکتوبر کو واپسی ہوئی۔جہاں تک ربوہ سے جانے اور واپس آنے کا سوال ہے پورے چار ماہ ہوئے۔ان چار ماہ میں تین بر اعظموں میں زمانہ کی آنکھ نے جو دیکھا وہ تو ایک لمبی داستان ہے۔آہستہ آہستہ بیان کروں گا۔یہاں آتے ہی ابھی کوفت دور نہیں ہوئی تھی کہ نئی ذمہ داریاں آگئیں۔آج جمعہ، پھر انصار اللہ کا اجتماع ، پھر چند دن کے بعد ایک جمعہ اور خدام الاحمدیہ کا اجتماع۔یہ کام ۳۱ اکتوبر سے ۹ نومبر تک رہیں گے۔پھر سلسلہ دوسری نوعیت کے کام کا شروع ہو جائے گا۔اس کے بعد شائد کچھ آرام کا بھی موقع ملے۔اگر نہ ملے تو بھی حرج نہیں کیونکہ جب تک میں کام میں لگا رہتا ہوں مجھے کوفت کا احساس نہیں ہوتا۔جب کام کم ہو جاتا ہےاس وقت تکان اپنا سر اٹھاتی ہے۔یہ جو کچھ ہو گیا ان چار مہینوں میں اس کا ایک پس منظر بھی ہے۔جمعہ کے خطبہ میں میں نے تحریک جدید کا پس منظر بیان کیا۔کیونکہ اسی پس منظر کے تسلسل میں ہم اس زمانہ میں داخل ہوئے اور اس میں سے گزرے۔مختلف واقعات کا ایک اور سلسلہ ہے۔اس وقت میں ان کے متعلق کچھ بتاؤں گا اور پھر انصار اللہ کی جو ذمہ داریاں ہیں چند ایک کا ان میں سے ذکر کروں گا۔محل الحمرا کا وجد آفریں تذکرہ سپین میں،۷ء میں بھی میں گیا۔میڈرڈ گئے ، وہاں سے قرطبہ گئے۔میڈرڈ کے قریب ایک قصبہ ہے طلیطلہ۔کچھ عرصہ طلیطلہ مسلمان حکومت کا دارالحکومت بھی رہا۔یہ قریباً ستر میل کے فاصلہ پر