تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 84 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 84

۸۴ موسم آیا تو وہ اڑ کے چلا گیا۔وہ لکھتا ہے مجھے انتظار تھا کہ جب اگلے موسم میں پانچ ہزار میل سے یہ منگ اڑ کے آئیں گے، میرے ہی یہاں آ کے لینڈ کرتا ہے یا کہیں اور چلا جاتا ہے۔کہتا ہے کہ جب سیزن آیا تو شروع سیزن میں تو نہیں۔درمیان میں ایک دن وہ جوڑ الگ کا آیا اور وہاں لینڈ کر گیا۔اگر منگ پانچ ہزار میل سے اپنی DESTINATION ، اپنی منزل مقصود کو نہیں بھولتا تو آپ کس طرح کوشش کرتے ہیں اپنی منزل مقصود کو بھول جانے کی۔میں اس طرف آپ لا رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے ہاتھ میں علم دے دیا۔آپ کی منزل مقصود آپ کی منزل مقصود ہر غیر مسلم کا دل ہے۔وہاں آپ نے پہنچنا ہے۔ایک میں مثال بدل دیتا ہوں۔ہر احمدی کے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نور کی ایک شمع پکڑا دی اور حکم دیا ہر احمدی کو کہ تم ہر غیر مسلم کے پاس جاؤ۔اس کے سینے کی ظلمات دور کر کے اُس کو منور کر دو۔اس کے لئے تدبیر ہے۔میں نے پہلے بتایا کہ آسمانی نشان ہیں جس کے لئے دعاؤں کی بڑی سخت ضرورت ہے۔سب سے بڑا معجزہ کیونکہ سب سے بڑا معجزہ جو ہے وہ قبولیت دعا کا معجزہ ہے۔اور سب سے بڑا نشان قبولیت دعا کا نشان ہے۔پھر یہ علمی فضا جو اس زمانے کی ہے، اب فضا علمی بن گئی ہے۔ہر شخص جس سے آپ بات کریں وہ آپ سے دلیل مانگے گا۔دلیل آپ کے پاس ہے لیکن اگر دلیل آپ نے اسی طرح اپنے صندوقوں میں بند رکھ چھوڑی جس طرح قرآن میں قرآن کریم کے متعلق آیا ہے کہ يُرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا کہ میری قوم کے اس حصہ نے پیٹھ کے پیچھے قرآن کریم کو رکھ دیا ہے۔اس طرف توجہ نہیں کرتے۔پھر تو آپ نہ اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکتے ہیں اور نہ اپنی ذمہ واری کو نبھا سکتے ہیں۔اب جو ظاہر ہو کے بالکل نمایاں ہو کے کمزوری سامنے آجاتی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں نہیں پڑھتے۔آپ مجھ سے بے شک سوال کریں کہ آپ کو کیسے پتہ لگا۔میں جواب دوں گا آپ کو۔مجھے ایسے پتہ لگا کہ بہت سارے گھر ہیں جن گھروں میں کتا بیں نہیں ہیں۔میں نے خدام الاحمدیہ کو کہا تھا کہ مجھے یہ بتائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی تفسیر مختلف آیات کی مختلف کتب میں لکھی ہے۔پانچ جلدیں اُس کی شائع ہو چکی ہیں اور غالبا سورۂ کہف تک وہ ہو چکی ہے۔پہلے تو وہ پڑھنی چاہئیں۔اس میں اتنے علوم بھرے ہوئے ہیں کہ اس زمانہ کی اور آنے والے زمانہ کی ضرورتوں کو وہ پورا کر رہے ہیں۔ان کو میں نے ایک مشورہ دیا ہے۔