تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 83 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 83

۸۳ - میں۔چھپی ہوئی نہیں ہے۔اور دوسری طرف کہہ دیا کہ یہ کتاب مکنون ہے۔یہ ایک چھپی ہوئی کتاب ہے۔بات یہ ہے کہ یہ مبین بھی ہے اور مکنون بھی ہے۔جو ظاہر ہو چکا وہ تو مبین ہے۔جو تفسیر اس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کر دی وہ تو مبین ہو گئی نا۔پھر امام بخاری جیسے فدائی پیدا ہوئے جنہوں نے وہ روایات جمع کر دیں۔تفسیر میں آگئیں۔وہ پہلی صدی میں بیان نہیں ہوئیں۔بیج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں مل جائیں گے۔صدی کے بزرگوں کو خدا نے بتا دیئے کہ اس آیت کے یہ معنے ہیں۔اولیاء اللہ کی کتب پڑھیں۔انہوں نے قرآن کریم کی آیات کی ایسی تفاسیر کیں جو پہلوں نے نہیں کیں۔معلم حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے نا۔میں نے خدام الاحمدیہ کو کہا ہے یہعلم سیکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھے اللہ نے ایک رات میں عربی زبان کے چالیس ہزار مصدر سکھا دیئے۔اول تو دنیا کا کوئی استاد چالیس ہزار مصد رشاید اتنے وقت میں بول ہی نہیں سکتا۔لگے نا شام کو تو صبح ہو جائے گی لیکن چالیس ہزار مصدر نہیں وہ بول سکے گا۔پھر وہ جوشاگرد ہے، وہ یاد بھی رکھے چالیس ہزار۔تو استاد اس دنیا کا استاد تو یہ کر نہیں سکتا اور یہ تو ایک ظاہری چیز ہے نا۔عربی زبان میں وہ کتابیں لکھیں کہ بڑے بڑے عرب خود گواہ ہیں کہ اُن کو بعض فقروں کا پتہ ہی نہیں لگتا کہ معنے کیا ہیں۔عربی زبان بڑی فصیح اور بلیغ زبان ہے۔الغرض حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایسی تفسیر سکھا دی۔شروع میں میں نے یہ بات کہی تھی کہ انصار الله مگ کی ڈار کا وہ لیڈر ہے جس کے پیچھے سب نے چلنا ہے۔خدام نے بھی، اطفال نے بھی۔بڑی ذمہ داری ہے۔اور وہ جو ڈار ہے مگ کی ، اُس کی ذمہ داری یہ ہے کہ ایک جگہ سے اُڑے، دوسری جگہ چلے۔مثلاً یہ ذمہ واری ہے اُس کی کہ انگلستان سے اُڑے اور کئی ہزار میل سمندر پر سے پرواز کر کے گرین لینڈ چلا جاتا ہے انڈے دے کے بچے نکالنے کے لئے اور تیر کی طرح سیدھا جاتا ہے۔اور انسان نے بڑی تحقیق کی ہے۔کہتے ہیں پتہ ہی نہیں لگا کہ نیچے کوئی لینڈ مارک تو نہیں نا۔سمندر ہی سمندر ہے کہ سیدھا اُڑ کے یہ وہاں پہنچتا کیسے ہے۔اتنی خدا نے اس کو دی ہے کہ یہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔ایک شوقین تھا انگلستان میں۔یہ مختلف قسم کے جانور پالتا تھا۔اس نے ایک کتاب لکھی ہے۔مرغابیاں وغیرہ بھی پالتا تھا۔وہ ہنگری جا کر بہت ساری قسمیں منگ کی لائے۔اُن کے پر کاٹ کے رکھے تھے۔ان کو پال لیا۔اپنے سے مانوس کر لیا۔وہ اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ایک دن میں نے منگ کو دانہ ڈالا ہوا تھا۔مگ پھر رہے تھے۔ایک جوڑا منگ کا اوپر سے گذر رہا تھا۔اُس نے دیکھا اور لینڈ کر گیا۔سارا موسم وہاں رہا۔جب اُن کے اڑنے کا SENSE