تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 440 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 440

۴۴۰ میں اور معلومات سے پر تھی اس لئے دوستوں نے اس کو بہت پسند کیا۔اس کے بعد ناظم اعلیٰ صاحب نے آئندہ سال کا پروگرام انصار کو بتایا اور اپیل کی کہ با قاعدگی سے مرکز میں رپورٹیں ارسال کریں تا کہ کام سے اطلاع ہوتی رہے اور مجالس کی راہنمائی ممکن ہو۔آخری اجلاس: تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم الفا سلمان صاحب نے معزز مہمانوں سے مہمانِ خصوصی مکرم مولانا محمد اجمل صاحب شاہد کا تعارف کروایا۔بعد از تعارف الحاج آر۔اے بوساری صاحب نے اس اجلاس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اجلاس ابیو کوٹا میں ایک عظیم مسجد کی تعمیر کے فنڈ ز جمع کرنے کے لئے مخصوص ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امت سے وعدہ ہے۔مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ اس لئے احباب جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ دل کھول کر خانہ خدا کی تعمیر کے لئے چندہ دیں۔ابھی تقریر جاری ہی تھی کہ احباب کرام نے قربانیاں پیش کرنے کے لئے ایک مثال قائم کی۔اناؤنسر نے اعلان کیا کہ صدر جلسہ نے اپنے چندہ کا چیک عطا کیا ہے۔یہ معمولی رقم نہ تھی۔بلکہ یہ دو ہزار پانچ صد نا ئیرا پاکستانی کرنسی کے مطابق چالیس ہزار روپے) کی خطیر رقم تھی۔ابو کوٹا کی جماعت جب یہ سوچ رہی تھی کہ اگر دو، اڑھائی ہزار نائیرہ کی رقم آج جمع ہو جائے تو مسجد کا کام شروع کرنے کے قابل ہو جائے گی۔جب اس رقم کا اعلان کیا گیا تو فضا یکدم نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی۔مجمع پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔اپیل کرنے والے دوست کی آواز دب کر رہ گئی اور وہ تقریر ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔پھر کیا تھا۔لوگ سٹیج پر ٹوٹے پڑ رہے تھے اور بارہ ہزار چھ صد اڑسٹھ نائیرا اور ساٹھ کو بو کی قربانی پیش کر دی جو دو لاکھ پاکستانی روپے سے زائد بنتی تھی۔صدر جماعت ابیوکوٹا نے اس بے مثال قربانی پر احباب کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ انشاء اللہ دوستوں کی توقعات کے مطابق ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی جائے گی۔مکرم نائب صدر صاحب کا الوداعی خطاب : مکرم امیر و نا ئب صدر صاحب مجلس نے الوداعی خطاب فرمایا۔آپ نے دوستوں کو اس اجتماع میں شرکت کرنے پر مبارکباد دی اور اعلان کیا کہ آئندہ اجتماع بینڈل سٹیٹ کے دار الحکومت بینن (BENIN) میں منعقد ہوگا۔آپ نے انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آپ گھروں میں جا کر جہاں اپنے تزکیۂ نفس کی طرف توجہ دیں ، وہاں اپنے اہل وعیال کی تربیت بھی اسلام کے مطابق کریں۔آپ نے نئی مطبوعات کا بھی مختصر تعارف کروایا اور دوستوں کو مطالعہ کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ اپنی اولاد کو بھی علم کے زیور سے آراستہ کریں۔الوداعی خطاب کے بعد اجتماعی دعا ہوئی۔11