تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 381
٣٨١ تیاری کریں۔آخر میں مکرم امیر صاحب نے دُعا کروائی اور پکنک اختتام پذیر ہوئی۔﴿۵۲﴾ مجلس ربوہ مقامی کا دوسرا یک روزہ سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ ربوہ کا دوسرا یک روزہ سالانہ اجتماع مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۸۱ء بروز ہفتہ صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا۔اختتامی اجلاس سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے خطاب فرمایا۔اپنے بصیرت افروز اور نہایت درجہ موثر خطاب میں آپ نے اس امر پر خوشی کا اظہار فرمایا کہ ربوہ کی مجلس انصار اللہ جس کے متعلق سالہا سال سے یہ تاثر تھا کہ وہ کوئی کام نہیں کر رہی، اب بیدار ہو گئی ہے اور اس کے منتظمین اور عہدیداران نے جب کام کرنے کا تہیہ کر لیا اور حکمت و موعظہ حسنہ اور صبر کی قرآنی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پروگرام کو آگے بڑھایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بہتر نتائج پیدا فرمائے ہیں۔صدر محترم نے فرمایا اگر چہ مجلس مقامی کے باقاعدہ کام کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے اور یہ کام ابھی ہمارے ٹارگٹ سے بہت پیچھے ہے تاہم جن حالات میں کام کا آغاز ہوا ہے انہیں دیکھتے ہوئے ہمیں یہ توقع نہ تھی کہ یہ مجلس اتنی جلدی اچھا کام کر سکے گی اس لئے مجھے امید ہے کہ اگر اسی لگن اور شوق اور محنت کے ساتھ اس کام کو جاری رکھا گیا تو انشاء اللہ العزیزیہ مجلس ہمارے ٹارگٹ تک پہنچنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔اس یک روزہ اجتماع میں علماء سلسلہ کے ایمان افروز خطابات کے علاوہ تلاوت قرآن پاک نظم خوانی، دینی و عام معلومات، تقاریر اور دلچسپ ورزشی مقابلے ہوئے۔باوجود اس کے کہ لاؤڈ سپیکر کی منظوری وقت پر نیل سکی پھر بھی پروگرام کے مطابق اجتماع کی کارروائی مسجد اقصیٰ کے وسیع وعریض صحن میں کامیابی کے ساتھ جاری رہی۔حاضرین کے دو پہر کے کھانے کا انتظام بھی مقام اجتماع میں ہی کیا گیا تھا۔ربوہ کے تمام محلوں سے انصار بڑے شوق اور نظم وضبط کے ساتھ اجتماع میں شامل ہوئے۔اس بار ربوہ کے محلوں کو چار بلاکوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ہر بلاک کو ایک مخصوص رنگ دیا گیا اور اس میں شامل حلقوں کو اس مخصوص رنگ کے کپڑے پر اپنی مجلس کا بینر (جھنڈا) تیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔چنانچہ مقام اجتماع میں چار مختلف رنگوں کے انتیس جھنڈے چار بلاکوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔انصار کو اپنے مخصوص بلاک میں اپنے جھنڈے کے سامنے بٹھایا گیا تھا۔ٹھیک سوا نو بجے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی انصار کی تعداد جو اجلاس کے آغاز کے وقت چھ صد سے اوپر تھی ، جلد ہی نو صد تک پہنچ گئی۔سب سے پہلے مسجد کے سامنے والے میدان میں والی بال، دوڑ اور لمبی چھلانگ کے ورزشی مقابلے ہوئے۔یہ پروگرام حسب معمول بڑے جوش و خروش سے سرانجام پایا اور انصار نے اس میں بڑی دلچسپی اور شوق کا اظہار کیا۔ورزشی مقابلوں کے بعد تمام انصار مسجد کے صحن میں اپنی مخصوص جگہوں پر آ کر بیٹھ گئے۔تلاوت