تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 19
۱۹ ۵- صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۔اطاعت مجلس انصاراللہ مرکزیہ کی طرف سے تمام مجالس کو طبع شدہ نوٹس بھجوائے گئے تا کہ جہاں تعلیم یافتہ انصار کی کمی ہو، وہاں ان مضامین کو پڑھ کر سنایا جائے اور انصار ان موضوعات کی روشنی میں اصلاح وارشاد اور تربیت کا کام کریں۔ہفتہ منانے کے بعد درج ذیل اضلاع اور مجالس کی طرف سے رپورٹیں موصول ہوئیں۔اضلاع لاہور، سکھر، حیدر آباد مجالس کوئٹہ، ماڈل ٹاؤن لاہور، حیدر آباد، منڈی بہاؤالدین، سانگھڑ ، شاہ تاج شوگر ملز منڈی بہاؤالدین، دارالذکر لاہور ، چک ۳۲ این پی غربی رحیم یار خان، خوشاب، کھوکھر غربی ،سکھر، شاہدرہ ٹاؤن لاہور، چیچہ وطنی، عارف والا ، چک ۶ قبولہ ، ساہیوال شہر۔مرحومین کی طرف سے انعامی ٹرافی کی تجویز پر حضورانور کا فیصلہ ۱۹۷۹ء میں ایک صاحب نے صدر محترم کی خدمت میں درخواست کی کہ وہ اپنے والد مرحوم کی طرف سے انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع پر ایک مستقل انعامی ٹرافی دینا چاہتے ہیں جو ہر سال تقاریر یا مضمون نویسی کے مقابلہ میں اول آنے والے ناصر کو دی جایا کرے۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے یہ بھی تحریر کیا کہ جماعت احمد یہ بر طانیہ کے سالانہ جلسہ پر جوانعامات تقسیم کئے جاتے ہیں،ان میں سے اکثر دوستوں کی طرف سے مرحوم لواحقین کے نام پر ہوتے ہیں۔صدر محترم نے اس سلسلہ میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں راہنمائی کی درخواست کی۔اس پر حضور انور نے ۱۸ جون ۱۹۷۹ء کوتحریر فرمایا: انصار اللہ مرکز یہ کا مقام اور ہے اور جماعت برطانیہ کا اور۔نامنظور۔یہ بدعت نہیں جاری ہوگی۔“ بائیسواں سالانہ اجتماع ۱۹۷۹ء مجلس انصار اللہ مرکز یہ کا بائیسواں سالانہ اجتماع ۲۶ ۲۷ ۱۲۸ کتوبر ۱۹۷۹ء کو دفتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ کے احاطہ میں منعقد ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا بابرکت ارشاد سیدنا حضرت خلیفہ لمسیح الثالث نے ۴ استمبر ۱۹۷۹ء کے خطبہ جمعہ میں اکتوبر میں ہونے والے مرکزی اجتماعات میں نمائندگی کے بارہ میں اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ مجلس خدام الاحمدیہ وانصار اللہ کی کوئی مجلس ایسی نہ رہے جس کا نمائندہ اپنے اپنے سالانہ اجتماع میں شامل نہ ہو چنانچہ ہر دو اجتماعات میں مجالس کی سو فیصدی