تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 332 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 332

۳۳۲ ملک کی مشکلات ہمارے لئے پریشانیاں پیدا کرتی ہیں۔سچی فطرت اردگرد کے حالات کو دیکھ کر کبھی خوش نہیں ہوسکتی۔جماعت احمد یہ خدا کے نزدیک پکڑی جائے گی اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھا۔جماعت کی اکثریت اپنے دوستوں کی دوستی کا حق کما حقہ ادا کرنے سے غفلت کر رہی ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ دوسروں سے ہمدردی کرے اور انہیں احمدیت کی دعوت دے۔ہر جانور میں کوئی نہ کوئی خوبی پائی جاتی ہے مثلاً کتے کی وفاداری مشہور ہے ، ہاتھی کی سوجھ بوجھ اور کوے کی اپنی ہم جنسوں سے ہمدردی، خیر خواہی وغیرہ۔پس یہ سب اوصاف تو فردا فردا جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔لیکن انسان ان سب اخلاق کا جامع ہے اور ہر خلق میں ہر جانور سے بہت بالا مقام حاصل کر سکتا ہے۔وہ اشرف المخلوقات صرف انہی معنوں میں کہلا سکتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونا کوئی معمولی کام نہیں کیونکہ آپ کی طرف منسوب ہونے والا دنیا کے سب سے عظیم انسان کی طرف منسوب ہو رہا ہے۔آپ کی شان اس امر میں ہے کہ اگر چہ انبیاء خلق عظیم میں اپنے زمانے کے تمام اشرف الخلوقات انسانوں سے آگے نکل گئے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکارم اخلاق اور حسن و احسان میں تمام انبیاء سے فرد فردا بھی اور اجتماعی طور پر بھی سب سے آگے نکل گئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری شان جس کی طرف آج خاص طور پر آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں، قرآن کریم کی اس آیت میں مذکور ہے کہ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی رسول کریم خدا کے اتنے قریب ہو گئے کہ اس سے زیادہ قرب کا تصور ممکن نہیں۔پھر مخلوق خدا کی طرف جھک گئے اور لوگوں کو بتایا کہ جو کچھ میں نے پایا ہے، تمہیں بھی اسی کی دعوت دیتا ہوں۔پھل دار شاخیں ہمیشہ جھک جاتی ہیں۔فَتَدَلی میں جھکنا مراد ہے۔جیسا کہ پھلدار درخت جھکتا ہے۔اس لئے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ زبانی دعوؤں میں سچی محبت کا رس گھولیں اور اپنے عظیم آقا کا اسوہ اختیار کریں۔ان درختوں کی طرح جن کی شاخیں میٹھے پھلوں کے بوجھ سے زمین کی طرف جھک جاتی ہیں اور اپنے فیض بھو کے اور پیاسے مسافروں سے اور بھی قریب کر دیتی ہیں۔آپ بھی حسن و احسان کے ساتھ پہلے سے بڑھ کر بنی نوع انسان کی طرف جھک جائیں۔وقت بہت نازک ہے۔اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔ایسا زمانہ بھی قریب ہے کہ شاید خود آپ کو اپنی ہوش بھی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔نماز جمعہ کے بعد ساڑھے تین بجے سے چھ بجے تک سوال و جواب کی مجلس منعقد ہوئی۔صدر محترم نے دوستوں کے سوالات کے جوابات دیئے جس کا سامعین پر نہایت اچھا اثر ہو ا۔اس مجلس میں تین افراد نے جماعت میں شمولیت کا شرف حاصل کیا۔اس کے بعد مکرم امیر صاحب ضلع کی کوٹھی پر چھ سے ساڑھے سات بجے تک بعض علم دوست وکلاء سے گفتگو فرمائی جس میں صدر محترم نے انہیں جماعت کے عقائد ، موجودہ عالم اسلام کی حالت اور