تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 312 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 312

۳۱۲ رم سلیم شاہجہان پوری صاحب، مکرم عبدالرحیم صاحب راٹھور، مکرم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری ، مکرم سعید احمد اعجاز صاحب، مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب ، مکرم آفتاب احمد بسمل صاحب ، مکرم چوہدری خورشید احمد صاحب، مکرم عبدالرؤف صاحب لودھی، مکرم محمد ابراہیم صاحب شاد، مکرم مرزا محمد یوسف صاحب، مکرم محمد اسماعیل صاحب نادر مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب، مکرم محمد اسلم صاحب صابر مکرم عبدالسلام اسلام صاحب۔ماہنامہ انصار اللہ قارئین کی نظر میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اپنے خط محرہ یکم اکتو بر۱۹۸۲ء میں تحریر فرماتے ہیں۔” مجھے آپ کا رسالہ انصار اللہ با قاعدگی ملتا رہتا ہے اور میں اسے بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہوں اور اس کے مضامین سے کما حقہ فائدہ اٹھاتا ہوں۔ا حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے اپنے مکتوب محرر ۵ ستمبر ۱۹۸۲ء میں لکھا: خاکسار رسالہ انصار اللہ ہمیشہ پڑھتا ہے۔ماشاء اللہ بہت دلچسپ اور ایمان افروز مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔شروع سے آخر تک پڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔ماہ ستمبر کے رسالہ میں بھی بڑے اچھے اچھے مضمون ہیں۔کسی ایک کو بھی چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔(۲) مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب (امیر ومشنری انچارج ) انگلستان اپنے مکتوب ۲۰ دسمبر ۱۹۸۲ء میں تحریر فرمایا: ما شاء اللہ رسالہ بہت عمدہ مؤثر انداز میں مرتب ہوتا ہے اور ہر ایک مضمون اور شذرہ پڑھ کر روحانی لذت وسرور حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ترتیب دینے والوں ، لکھنے والوں اور شائع کرنے والوں کو جزائے خیر دے۔آمین۔“ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ (سابق مشنری انچارج سوئٹزر لینڈ ) اپنے خط ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۲ء میں لکھتے ہیں: ”خاکسار کی دانست میں اس کا معیار ماشاء اللہ بلند ہے اور بڑی مفید خدمت بجالا رہا ہے۔ہم جو باہر ہیں ہم کو بھی اس خدمت میں حصہ لینا چاہئیے۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق بخشے۔آمین۔(۴) مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب اپنے مکتوب محررہ ۱۴ ستمبر ۱۹۸۲ء میں تحریر کرتے ہیں: بفضل خدا ماہنامہ انصار اللہ میں سنجیدگی علم دوستی اور تقویٰ کے پہلو اتنے نمایاں ہیں کہ قاری خود بخود ان سے متاثر ہوتا ہے۔یوں تو اس نے مختلف رنگوں میں جماعت کی بھر پور خدمت کی ہے مگر بوڑھوں کو جوان بنانے اور جوانوں کو مزید جوان بنانے میں اور انہیں خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے