تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 289
۲۸۹ ۱۷۔مکرم ہدایت اللہ بنگوی صاحب ( نمائندہ یو۔کے) ۱۸ مکرم برادر مظفر احمد صاحب ظفر (امریکہ ) ۱۹۔مکرم عبدالرؤف صاحب آف سویڈن (نمائندہ یورپ) صدر محترم کی اصولی ہدایات صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اس کمیٹی کو پہلے اجلاس سے قبل مندرجہ ذیل راہنما اصول تحریر فرمائے : ا۔آج کا اجلاس طریق کار اور لائحہ عمل طے کرنے کے علاوہ اُن خصوصی شقوں کو لے جن کا تعلق بیرون سے ہواور بیرون والوں کو زیادہ موقعہ مہیا کیا جائے۔۲ حتی المقدور یہ کوشش ہونی چاہئیے کہ مغز میں تبدیلی نہ ہو۔لفظی ستم دور ہوں۔ہاں تضاد دور کرنے کے لئے مغز میں ضروری تبدیلی ہو سکتی ہے۔۔اگر مغز میں ضروری تبدیلی یا کوئی اہم بات طے ہو تو ایسی چیزیں آئندہ شوری میں پیش کرنے کے لئے الگ کر دی جائیں اور معمولی لفظی یا تضاد کی تبدیلیوں کی رپورٹ الگ ہو۔﴿۴﴾ ابتدائی اجلاس و تشکیل سب کمیٹی : دستور کمیٹی کا پہلا اجلاس مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۱ ء رات آٹھ بجے گیسٹ ہاؤس انصار اللہ مرکز یہ میں زیر صدارت مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب منعقد ہوا۔اجلاس میں مکرم خلیفہ رفیع الدین احمد صاحب - مکرم محمد رشید میر صاحب - مکرم کرنل دلدار احمد صاحب اور مکرم عبدالرؤف صاحب کے سوا تمام اراکین کمیٹی نے شرکت کی۔دستور کمیٹی نے اپنے ابتدائی اجلاس میں کمیٹی کے اغراض و مقاصد متعین کئے اور طریق کار ولائحہ عمل طے کیا نیز مجالس بیرون کے نمائندگان کی موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دستور کے ان حصوں پر بحث کی جن کا تعلق مجالس بیرون سے تھا۔اس بحث کے دوران مجالس بیرون کے حالات و مسائل اور ان کی نوعیت بھی سامنے آئی جن کو دستور کمیٹی نے اپنے بعد کے اجلاسوں میں زیر نظر رکھا۔اس موقع پر ایک سب کمیٹی بھی قائم کی گئی جسے دستور اساسی پر تفصیلی غور کرنے کے بعد اپنی سفارشات دوماہ کے اندر پیش کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔سب کمیٹی کے اراکین حسب ذیل تھے۔اراکین سب کمیٹی : مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی ( صدر سب کمیٹی ) ، مکرم شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی ( سیکرٹری سب کمیٹی )، مکرم فضل الہی صاحب انوری ، مکرم چوہدری غلام دستگیر صاحب، مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب، مکرم میجر محمود احمد صاحب، مکرم عبدالسمیع صاحب حسنی۔