تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 5
مثال نمبر ۴۔مال مقام آغاز ( ب ج عام چندہ ماہانہ چندہ تعمیر گیسٹ ہاؤس تعداد انصاراللہ جو با قاعدہ بجٹ میں شامل ہیں ۳۰/۵۰ ۱۰۰ روپے ماہانہ ۵۰۰ روپے و چنده اجتماع ۷۵ روپے اوپر کے خانوں میں گزشتہ سال کے اعداد و شمار درج کرنے کے بعد سال رواں کا نصب العین تجویز کریں کہ شق ا، ب، ج اور د میں کیا اضافہ کریں گے۔مثال نمبر ۵۔شعبہ عمومی گزشتہ سال کتنی رپورٹیں آپ نے مرکز کو بھجوائیں۔ب: کتنے عام اجلاس منعقد کئے۔۔ج کتنے عاملہ کے اجلاس منعقد کئے۔۔وغیرہ وغیرہ نصب العین۔مثال نمبر ۶۔شعبہ تربیت کتنے انصار با جماعت نماز پڑھنے کے عادی ہیں۔ب کتنے افراد جماعت نے آپ کی کوششوں سے غیر شرعی عادات و رسوم سے چھٹکارا حاصل کیا وغیرہ وغیرہ شعبہ تربیت کی شق ب کا نصب العین صرف اس صورت میں معین ہوگا۔اگر جماعت کے کسی حصہ میں بعض بدعات پائی جائیں۔اگر تمام جماعت غیر شرعی رسوم اور بدعات سے پاک ہے تو اس حصہ میں کام صرف یہ ہوسکتا ہے کہ انہیں آئندہ بھی بدعات سے محفوظ رکھنے کے لئے بار بار نصیحت کی جاتی رہے۔یہ چند مثالیں جو اوپر درج کی جارہی ہیں، یہ مکمل نہیں۔بعض شعبوں کے صرف بعض حصے مثال میں واضح کئے گئے ہیں تا کہ اس نمونہ پر ہر شعبہ کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد مقام آغاز اور نصب العین معین کریں اور آئندہ سال بھر دعاؤں سے مدد مانگتے ہوئے اس نصب العین کی پیروی میں مصروف رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور بیش از پیش خدمت دین کی توفیق عطا فرماتا رہے۔آمین )