تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 213
۲۱۳ ہیں ہمیں کھا د ملے گی۔ہمیں اور کیا چاہیئے۔اس لئے مسافر کو آرام مل جائے اور ہمیں کھا دمل جائے تو دونوں کا فائدہ ہے۔اتنی احتیاط کرتی ہیں وہ قومیں جو ویسے اتنی امیر ہیں کہ وہ ہماری نسبت کروڑوں گنا زیادہ کھا د خرید کر استعمال کر سکتی ہیں، اتنی زیادہ امیر قومیں ہیں لیکن خدا کی کائنات کا ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتیں تبھی تو امیر ہوئی ہیں۔ہماری طرح رہتیں تو امیر ہو ہی نہیں سکتی تھیں۔جماعت احمدیہ کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراست کا بہت بڑا مقام ملا ہے۔اپنا ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہونے دینا یعنی اپنی طاقت کا۔بہت بڑی طاقت ہے مسیح موعود کی جماعت۔اس ساری طاقت کو آپ استعمال کریں تو آنا فانا انقلاب بر پا ہو جائے گا جس کے لئے خوا ہیں دیکھی جاتی ہیں کہ پتہ نہیں کب آئے گا؟ یہ عادت ڈالیں کہ ہم نے اس کو استعمال کرنا ہے۔ہر احمدی فعال ہے۔آپ تلاش کریں پس جب زعماء واپس جائیں گے تو اپنی اپنی سوچ، اپنی اپنی فکر کے مطابق ہر آدمی کے متعلق سوچیں کہ انصار اللہ کے کام میں اس سے میں کیا فائدہ اٹھا سکتا ہوں اور شعبہ وار فائدے کی کوشش کریں۔میں نے عرض کیا تھا کہ سندھ کے ایک گاؤں ناصر آباد میں دو بابے (بڑھے ) تھے ایک ہدایت اللہ صاحب اور ایک عبد الحئی صاحب زعیم کے والد ، ان لوگوں نے اُن کو ایک پرانے کپڑے کی طرح پھینکا ہوا تھا کہ جی ، یہ اس قسم کے تو بابے ہیں۔ہم کام کیا کریں۔میں نے کہا میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں ، ابھی ان سے سوال کرتا ہوں اور آپ کو پتہ لگ جائے گا۔ان سے میں نے پوچھا کہ آپ پانچ وقت نماز پہ آتے ہیں نا۔انہوں نے کہا جی ہاں، اللہ کے فضل سے آتے ہیں۔یہی کام ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے۔بڑھے ہو چکے ہیں۔میں نے کہا نماز پہ آتے وقت کچھ لوگوں کے دروازے کھٹکھٹا سکتے ہیں کہ میاں ! نماز کے لئے آؤ۔کیوں نہیں آتے۔مسجد قریباً خالی تھی ، جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں بہت تھوڑے لوگ تھے۔انہوں نے کہا اور ہمیں کیا چاہئے ، ہماری زندگی کام آ جائے گی۔ہم تو بریکار بیٹھے وقت گزار رہے ہیں۔ہمیں اور کیا چاہیے۔ہمیں کام دیں۔ہم کام کرتے ہیں اور اگلی دفعہ میں گیا تو مسجد خدا کے فضل سے صحن تک بھری ہوئی تھی ، ان دو کے دروازے کھٹکھٹانے سے۔تو رڈی کا کوئی کپڑا بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ہراحمدی فعال ہے۔اس میں برکتیں ہیں۔آپ تلاش کریں۔آپ کو مل جائیں گی۔اس لئے تربیت کے شعبے میں بھی آپ استفادہ کریں اور جب ناظمین زعماء کو سمجھانے کے لئے دورہ کریں تو ان کو صرف سمجھانا نہیں ہے، ان کو پریکٹیکل کر کے دکھانا ہے۔ہمارے ملک کا معیار بہت چھوٹا ہے۔یہاں صرف پیغام رسانی بھی کام نہیں آتی بلکہ پیغام رسانی