تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 176 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 176

صدر محترم اور مرکزی مجلس عاملہ کے حصہ میں آئی کہ مرکزی دفتر کی تمام پُرکشش سہولتوں ، گراسی پلاٹ، سرسبز ماحول، درختوں کے سائے ،شہر اور بازار کے قریب تر ہونا، دار الضیافت اور رہائشی بیریکس کی قربت نیز گرد و غبار نہ ہونے اور سب سے بڑھ کر تمام دفاتر کانئی جگہ شفٹ کرنے کا مسئلہ۔یہ سب باتیں اس حق میں تھیں کہ اجتماع اسی روائتی جگہ پر ہی منعقد ہو لیکن یہاں سب سے بڑی روک جگہ کی قلت تھی اور اُس کا حل سوائے کھلے میدان میں منتقل ہونے کے اور کوئی نہیں تھا۔ان تمام امور و مسائل اور نئے مقام اجتماع میں در پیش امور کے سلسلہ میں صدر محترم نے اجتماع کی انتظامیہ کمیٹی مقرر فرمائی جس نے مختلف جگہوں کا معائنہ کر کے یہی فیصلہ کیا کہ جلسہ سالانہ کے میدان کے گرد وغبار کو قابو میں لا کر وہاں دفاتر ، طعام گاہ اور کھیل کا میدان تیار کیا جائے اور اجتماع کا پنڈال مسجد اقصی کے وسیع و عریض صحن میں قائم کیا جائے جو کہ سابقہ مقام اجتماع سے دو اڑھائی گنا زیادہ وسیع وعریض ہو۔نئی جگہ اجتماع منتقل کرنے سے انتظامیہ کمیٹی کو ایک خدشہ یہ لاحق تھا کہ رہائش گاہ سے اجتماع گاہ کا فاصلہ پہلے سے تین چار گنا بڑھ گیا ہے، اس وجہ سے اجتماع کی حاضری پر کہیں منفی اثر نہ پڑے لیکن ایسے تمام خدشے بے بنیا د ثابت ہوئے اور اجتماع کے علمی پروگرام کے علاوہ نماز تہجد میں بھی یہ دیکھنے میں آیا کہ صبح سوا چار بجے ہی پنڈال کا نصف صحن پُر شوق نمازیوں سے پر ہو چکا تھا۔تہجد اور نماز فجر میں حاضری ڈیڑھ دو ہزار کے لگ بھگ ہو جاتی۔سابقہ پُرکشش اور قرب کے حامل اجتماع گاہ میں بھی اتنی زیادہ حاضری تہجد کے وقت نہیں ہوتی تھی۔اور یہ بھی ایک وجہ تھی کہ بعض دوستوں نے تجویز پیش کی تھی کہ اجتماع پر تہجد اور نماز فجر اجتماع گاہ میں ادا کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے ربوہ کے انصار کو بھی باہر کی مجالس کے انصار کی طرح ناشتہ اور کھانا مہیا کیا جائے لیکن یہاں نظارہ یہ تھا کہ رہائشی جگہ اور نئے اجتماع گاہ میں چار گنا فاصلہ بڑھ جانے اور مقام اجتماع شہر سے باہر منتقل ہو جانے کے باوجود نماز تہجد میں حاضری نے پہلے سالوں کے تمام گلے شکوے دھو دیئے۔یہ پہلو بھی اپنوں کے لئے تقویت ایمان اور دوسروں کے لئے حیرانی کا باعث بنا۔الحمد للہ دوسرے تمام علمی پروگرام بھی ذوق شوق سے سنے گئے۔انصار تو حاضر ہوتے ہی تھے، خدام اور اطفال بھی اس کثرت سے اس اجتماع میں شریک ہوئے کہ بہت سے احباب کو پنڈال سے باہر بیٹھ کر نقار مرسننا پڑیں۔اس دفعہ پہلی بار انصار کو سائیکلوں پر اجتماع میں آنے کی باضابطہ تحریک کی گئی۔چنانچہ امسال چھپیں مجالس کے بانوے انصار اجتماع پر سائیکلوں پر آئے ، ان کو سندِ خوشنودی عطا کی گئی۔اس میں گجرات اول، فیصل آباد دوم اور سرگودھا سوم رہا۔اس کے علاوہ قصور، بہاولپور، گوجرانوالہ، تھر پارکرسندھ اور شیخو پورہ وغیرہ سے بھی انصار سائیکلوں پر آئے۔سب سے طویل فاصلہ تھر پارکر سے آنے والے دو انصار نے طے کیا۔انہوں نے قریباً آٹھ سو میل کا سفر چھ روز میں طے کیا۔سب سے زیادہ عمر کے ناصر مکرم ڈاکٹر احمد حسن صاحب گجرات تھے ، ان