تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 169 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 169

۱۶۹ ہوتی چلی جائے۔۔اصول یہ ہے کہ جتنا ہضم ہو جائے اتنا کھاؤ۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بُھوک ہو اُس وقت کھاؤ۔یہاں سے شروع کرتے ہیں۔بھوک کب ہوگی جب پہلا کھانا ہضم ہو گیا۔تنبھی بھوک لگے گی نا۔تو اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ہضم کی طرف بھی توجہ دو۔جب بھوک ہو تو کھاؤ۔ابھی بھوک ہو تو چھوڑ دو۔زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔خدا نے ایک سبق سکھا دیا ہے کہ میں نے اپنی تعلیم میں تم پر بوجھ نہیں ڈالا۔تم کسی پر جو تمہارے ماتحت ہیں اتنا بوجھ نہ ڈالو جوان کی طاقت سے باہر ہو۔نہ مزدور پر ڈالو، نہ معدے پر ڈالو۔وہ بھی تو آپ کا مزدور ہے۔اسلام کی متاع غیروں سے احمدیوں نے چھینی ہے ہر میدان میں ان قوموں نے بڑی ترقی کی مثلاً جہاں مسلمان کو کرنی چاہئے تھی۔ایک زمانہ میں کی بھی تھی اب دوسروں نے اُن میدانوں پر قبضہ کر لیا۔اب ہم احمدیوں نے اُن سے یہ میدان چھیننے ہیں۔پتہ ہے؟ یہ تم انصار کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالو کہ جو ہماری دولت تھی۔متاع تھی اسلام کی وہ غیروں کے ہاتھ میں جا پڑی۔وہ ہم نے ان سے چھینی ہے۔اس لئے میں کہتا ہوں قرآن کریم کے علوم سیکھنے میں مہارت حاصل کرو۔“ چوبیسواں سالانہ اجتماع ۱۹۸۱ء مجلس کا چوبیسواں سالانہ اجتماع پندرھویں صدی کے عین آغاز پر ۳۰ اکتوبر سے یکم نومبر ۱۹۸۱ء تک اپنے روایتی ماحول میں منعقد ہوا۔ارشادسید ناحضرت خلیقه اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ذیلی تنظیموں کے سالانہ اجتماعات کی تیاری اور اہمیت پر ۱۸ستمبر ۱۹۸۱ء کومسجد اقصی ربوہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔اپنے خطبہ میں حضور انور نے ہر جماعت پر خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی ، یہ ذمہ داری ڈالی کہ اُن کے نمائندگان اجتماع میں ضرور شامل ہوں۔حضور انور نے دعاؤں کی بھی خاص طور پر تحریک فرمائی اور صدقات دینے کا ارشاد فرمایا نیز انصار الله، لجنہ اماءاللہ اور خدام الاحمدیہ کو اپنے اپنے اجتماعات کے موقع پر بنی نوع انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اکیس اکیس بکروں کی قربانی دینے کی بھی ہدایت فرمائی۔حضور نے تشہد اور تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اکتوبر کے آخر میں خدام الاحمدیہ، اطفال احمدیہ، لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ اور انصار اللہ